انوارالعلوم (جلد 10) — Page 508
۵۰۸ اس قسم کی چالیں اس میں چلی گئی ہیں- مگر باوجود اس قسم کی کوششوں کے یہی باتیں ان کو جھوٹا ثابت کر رہی ہیں- اول اس طرح کہ عیسائیوں کی طرف سے جو قرآن پیش کیا جاتا ہے اس کی وہی ترتیب ہے جو موجودہ قرآن کی ہے- اس لئے ان کا یہ کہنا انہی کے پیش کردہ قرآن سے غلط ہو گیا کہ حضرت عثمانرضی اللہ عنہ کے وقت قرآن کریم کی ترتیب بدل گئی تھی- پھر اس قرآن میں بعض ایسے الفاظ لکھے ہیں جو عربی کے ہیں ہی نہیں- مثلاً ایک جگہ علم کو ایلم لکھا ہے- اسی طرح ایک جگہ ایسی غلطی کی ہے جس سے اس چور کا مشہور قصہ یاد آجاتا ہے جس کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ نیا نیا چور بنا تھا- چوری کرنے کے بعد جب پولیس تحقیقات کے لئے آئی تو وہ خود بھی وہاں چلا گیا- اور تحقیقات میں مدد دینے لگ گیا- کہنے لگا کہ معلوم ہوتا ہے چور ادھر سے آیا- یہاں سے اترا اور پھر ادھر گیا- پولیس والوں نے تاڑ لیا کہ اس کا چوری میں ضرور دخل ہے- اس لئے اس سے ساری باتیں پوچھنے لگے اور جدھر وہ لے گیا اس کے ساتھ چل پڑے- آخر ایک دروازہ کے پاس جا کر کہنے لگا- معلوم ہوتا ہے چور اس دروازہ سے نکلا اور اسے یہاں سے ٹھوکر لگی- اس پر گٹھڑی اندر اور میں باہر- اس موقع پر بے اختیار اس کے منہ سے میں نکل گیا- پولیس نے فوراً اسے پکڑ لیا- یہی حال یہاں ہوا- قرآن کریم میں ایک آیت ہے وانزل جنودا لم تروھا ۵؎اللہ تعالیٰ نے ایسے لشکر اتارے جن کو تم دیکھ نہیں رہے تھے- یہاں ھا کی ضمیر جنود کے طرف جاتی ہے- مگر عیسائیوں کے پیش کردہ قرآن میں کہا گیا ہے کہ یہاں جندا ہے مگر آگے ھا ہی رکھا ہے اور ضمیر کو نہیں بدلا- غرض اس قسم کی بہت سی شہادتیں ہیں جن سے اس کے اندر سے ہی غلطیاں معلوم ہو جاتی ہیں، معلوم ہوتا ہے کسی نے مسلمانوں کو دھوکا دینے کیلئے اسے لکھا اور اس میں غلطیاں کرتا گیا- چنانچہ واذا استسقی کوک کے ساتھ لکھا ہے- اسی طرح ھم السفھاء کو ھمسفھا لکھ دیا- اسی طرح اور کئی الفاظ غلط لکھے ہیں- مثلاً انماالنسی کو انما ال ناسی لکھا ہے- حالانکہ ناسی ان معنوں میں آتا ہی نہیں- اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کوئی جاہل عیسائی قرآن کی نقل کرنے بیٹھا جسے عربی نہ آتی تھی اور اس قسم کی غلطیاں کرتا گیا- اب میں قرآن کریم کے متعلق یوروپین مستشرقین کے بعض متفرق اعتراضات کا ذکر کرتا ہوں-