انوارالعلوم (جلد 10) — Page 500
۵۰۰ طور پر میں نے اس طرح حل کیا ہے کہ ہر سمجھدار کی سمجھ میں آجائے گا- ناسخ ومنسوخ کی بحث (۹)ایک سوال قرآن کریم کے متعلق ناسخ ومنسوخ کا آجاتا ہے- یہ خود مسلمانوں کا پیدا کردہ ہے- کیونکہ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ قرآنکریم کی بعض آیتیں منسوخ ہیں- انہیں بعض دوسری آیتوں یا حدیثوں نے منسوخ کر دیا ہے- وہ پڑھی تو جائیں گی مگر ان پر عمل نہیں کیا جائیگا- یورپ والوں نے اس کے متعلق کہا ہے کہ ناسخ منسوخ کا ڈھکوسلا اس لئے بنایا گیا ہے کہ قرآن کریم میں صریح تضاد پایا جاتا ہے- جب اسے دور کرنے کی مسلمانوں کو کوئی صورت نظر نہ آئی تو انہوں نے متضاد آتیوں میں سے ایک آیت کو ناسخ اور دوسری کو منسوخ قرار دے دیا- نزول قرآن کا مقصد اور اس کا پورا ہونا (۱۰)پھر ایک یہ بھی سوال ہے کہ آیا قرآنکریم اس مقصد کو پورا کرتا ہے جس کے لئے کوئی مذہب نازل ہوتا ہے- ہر ایک الہامی کتاب اسی وقت مفید ہو سکتی ہے جب اس مقصد کو پورا کرے جسے الہامی کتاب کو پورا کرنا چاہیے- اور لوگ جن الہامی کتب کو مانتے ہیں ان کی کوئی نہ کوئی ضرورت بھی ثابت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کتاب آنے کی یہ یہ ضرورت تھی اب سوال یہ ہے کہ کیا قرآن کریم اس ضرورت کو پورا کرتا ہے جس کے لئے وہ نازل ہوا ہے؟ اگر کرتا ہے تو خدا تعالیٰ کی کتاب ہے ورنہ نہیں- فطرت َانسانی کے مطابق تعلیم (۱۱)پھر قرآن کریم کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ ہر طبقہ اور ہر درجہ کی فطرت کے لوگوں کے لئے ہے- اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا قرآن کریم کی تعلیم فی الواقع ایسی ہے کہ اس سے ایک ان پڑھ بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے اور اگر ایک عالم پڑھے تو وہ بھی مستفیض ہو سکتا ہے- اگر اس کی تعلیم ایسی ہے تو یہ کتاب خدا تعالیٰ کی طرف سے کہلا سکتی ہے- ورنہ نہیں- فہم ِقرآن کے اصول (۱۲)ایک اور سوال ہمارے سامنے یہ آتا ہے کہ قرآن کریم کے فہم کے اصول کیا ہیں؟ ہر کتاب کو سمجھنے اور اس سے مستفیض ہونے کے لئے کوئی نہ کوئی کلید ہوتی ہے- قرآن کریم کے سمجھنے کے لئے کن اصول کی ضرورت ہے؟ گویا قرآن کریم کو اصول تفسیر بھی بیان کرنے چاہئیں تاکہ ان سے کام لے کر ہر