انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 11

۱۱ جاوے۔یاد رکھو کہ ہر گھر ہر محلہ ہر گاؤں کی اصلاح جب تک نہ ہو اور ایک ایک فرد اپنے قومی کیریکٹر میں مضبوط نہ ہو تو قوم نہیں بنے گی۔اور اگر بغیر انفرادی اصلاح اور تربیت کے قوم بناتے ہو تو اس کی مثال اس شخص کی سی ہو گی جو مختلف امراض کا شکار ہو کر بستر مرگ پر پڑا ہوا ہو اور غرغره بول رہا ہو۔اسے اگر یہ بھی کہا جاوے کہ تیرے بچہ کو قتل کیا جا رہا ہے تو اُسے اُٹھنے کی بھی سکت اور ہمت نہ ہوگی۔اس بستر مرگ کے مریض سے قومی توقعات کیا ہو سکیں گی۔میں صاف صاف کہتا ہوں کہ یہ ایک خطرناک غلطی ہوئی ہے کہ قوم کی اصلاح کی طرف توجہ نہیں کی گئی اور جنھوں نے انفرادی اصلاح کی طرف توجہ کی ہے انہوں نے ان میں قومی درد پیدا نہیں کیا۔اور نتیجہ یہ ہے کہ ہم انفرادی اور قومی حیثیت میں سب سے پیچھے ہیں۔اگرچہ ہمارے ہمسائے بہت آگے نکل چکے ہیں لیکن اب بھی اگر صحیح اصول اور صحیح انتظام کے ساتھ ہم اپنی انفرادی اور قومی ذمہ داریوں کا احساس کر کے اصلاح شروع کر دیں۔تو میں خدا کے فضل سے یقین رکھتا ہوں کہ ہم کسی سے پیچھے نہ رہیں گے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ کوشش کے صحیح طریق کو اختیار کر لیں۔اب اس اصل کو مدنظر رکھتے ہوئے میں پہلے شخصی ذمہ داریوں کو لیتا ہوں۔مسلمان کی انفرادی ذمہ داریاں سب سے پہلی ہے جس کی مسلمان کو ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ مسلمان کو حقیقی معنوں میں مسلمان بنایا جاوے۔جب تک مسلمان مسلمان نہیں بنتا وہ قومی عمارت کے اندر پختہ اینٹ کے طور پر نہیں لگ سکتا۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ سب سے پیچھے یا جس کا خانہ بالکل خالی ہے کہ اسلام ہے۔اس کی طرف قطعاً توجہ نہیں۔کس قدر افسوس کا مقام ہے اگر مسلمانوں میں تلاش کیا جاوے تو سَو میں سے ایک بھی بمشکل نکلے گا جو قرآن شریف پڑھ سکتا ہو۔اور ایک فی صدی بھی نہیں جو اسلام کی تعلیم سے واقف ہو۔اور ایک فی ہزار بھی نہ نکلے گا جو عمل کرتا ہو۔پھر ایسے افراد کا مجمومہ جو قوم ہوگی کہ کیا ہو گی؟ آخر قوم کے کچھ معنے ہیں۔ہندو، ہندو کہلاتا ہے-مسلمان، مسلمان کہلاتا ہے۔کیوں ہندوستانی کہنے یہ مطلب پورا نہیں ہوتا۔حقیقت یہ ہے کہ یہ امتیازِ نام مذہب اور تعلیم کے سبب سے ہے۔ہندو کہتا ہے۔کہ اس کے پاس ایسی تعلیم ہے جو مسلمان کے پاس نہیں۔مسلمان کہتا ہے ہمارے پاس ایسی تعلیم ہے کہ کسی دوسرے کے پاس نہیں۔اس لئے ہندو یا مسلمان جدا جدا ناموں سے پکارے جاتے ہیں۔اگر ہم اس وجہ سے مسلمان کہلاتے ہیں کہ ہماری تعلیم اعلیٰ درجہ کی ہے تو قابل