انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 12

۱۲ غور یہ امر ہے کہ کونسی بات ہم میں پائی جاتی ہے۔اور جب ہم اسلام جو قرآن کریم کی تعلیم ہے اس سے ناواقف ہیں تو پھر کس چیز کے لئے لڑ رہے ہیں۔تعجب ہے اسے خود گھرسے عملا ً نکال دیا ہے۔ایک مصری لکھتا ہے کہ قرآن کریم گیارہ جگہ کام آتا ہے۔منجملہ اس کے (1) غلاف میں رکھنے کے لئے، (۲) قسم کھانے کے لئے اور آخری استعمال یہ ہے کہ وہ قرآن کریم جو ایک شخص نے مسلمان کہلا کر ساری عمرنہ کھولا تھا۔مُلّا آ کر اس کی قبر پر کھولے۔میں پوچھتا ہوں وہ کتاب جو ہدایت کے لئے آئی تھی، وہ کتاب جو اپنے عامل کو یقیناً کامیاب کر دیتی ہے، وہ کتاب جس کی ابتداء ہی فاتحہ سے ہوتی تھی جو کھلے رہنے کی تعلیم دیتی تھی، آج وہ بند رہتی ہے اور ہم اسے کھول کر بھی نہیں دیکھتے تو پھر کیا حق ہے کہ دوسروں کے گھر جا کر تبلیغ کریں۔میں تو اپنے قرآن کو غلاف میں نہیں رکھتا کہ یہ بند کرنے کے مترادف ہے۔کھلا رکھتا ہوں کہ قرآن کریم کی اصل عزت اور عظمت اس کی تلاوت، اس کا فہم اس پر عمل اور پھر اس کی اشاعت ہے۔پس سب سے مقدم یہی چیز ہے جس کی مسلمانوں کو ضرورت ہے۔اس کو بند نہیں کھول کر آنکھوں کے سامنے رکھیں اسے سمجھیں اور اس کی تعلیم پر عمل کریں۔میں پھر کہتا ہوں کہ قرآن شریف غلافوں میں رکھنے کے لئے نہیں۔مجھے تو بعض یہی کہیں گے کہ میں اپنے قرآن کو غلاف میں نہیں رکھتا۔( اس موقع پر آپ نے اپنا قرآن مجید ہاتھ میں لے کر مکرر دکھایا۔عرفانی) مگر یہ خیال غلط ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں تو وہ چمڑہ پر لکھا ہوا تھا۔اس کا حقیقی اور سچا ادب یہی ہے کہ ہر پڑھو اور عمل کرو۔میں بآواز بلند کہتا ہوں اگر مسلمان اس کے لئے تیار نہیں تو ان کا کوئی حق نہیں کہ وہ مسلمان کہلائیں۔ان کا اختیار ہے ہندوستانی کہلائیں یا کچھ اور۔تعلیم یافتہ طبقہ کی بے توجہی کا راز اور علماء کی غفلت ٍ غرض سب سے پہلی چیز قرآن مجید کی واقفیت ہے۔یاد رکھو قرآن کریم بولتا نہیں۔اس کو سمجھاناعلماء کاکام ہے۔مگر ایک مشکل یہ ہے کہ علماء خود قرآن مجید کے اسرار اور حقائق کو علوم کی روشنی میں بیان کرنے سے قاصر ہیں۔تعلیم یافتہ لوگ جو توجہ نہیں کرتے اس کا سِرّ کیا ہے۔وہ یہی ہے کہ جب وہ علماء سے کوئی سوال قرآن مجید کے متعلق ایسے رنگ میں کرتے ہیں جس کا تعلق علوم جدیدہ سے ہو تو علماء بجائے جواب دینے کے کہہ دیتے ہیں کہ یہ کافر ہو گیایا یہ کفر ہے۔اس قسم کی باتوں نے ان کے دل میں روک پیدا کر دی