انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 496 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 496

۴۹۶ وجہ سے چونکہ ہم سب لوگ ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے اس لئے سوا پانچ بجے میں دعا کروں گا سب دوست اپنی اپنی جگہ اس دعا میں شامل ہو جائیں- لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ ابھی نقلیں ہو ہی رہی تھیں کہ بارش تھم گئی اور میں نے کہلا بھیجا کہ خدا تعالیٰ نے دوسری صورت پیدا کر دی ہے اب نقلیں کروانے کی ضرورت نہیں- قرآنی مطالب پر غور کرنے کیلئے بعض اصولی باتیں ‏ مجھے افسوس ہے کہ آج میں اس مضمون کو پوری طرح بیان کرنے کے قابل نہیں جو اس جلسے کے لئے میں نے تجویز کیا تھا- اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مضمون کم ازکم وقت لے اور اسے خلاصتہ بھی بیان کیا جائے تب بھی پانچ چھ گھنٹے میں بیان ہو سکتا ہے- اور اتنی لمبی تقریر موسم کے خراب ہونے اور پھر طبیعت کی کمزوری کی وجہ سے اس وقت نہیں ہو سکتی- میں نے اس مضمون کو جلسہ سالانہ کے لئے اس وجہ سے چنا تھا کہ یہ مضمون قرآن کریم کے متعلق ہے اور میراارادہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰٰ کا فضل شامل حال ہو تو آئندہ جو قرآن کریم کا ترجمہ ہماری طرف سے شائع ہو اس کا اسے دیباچہ بنا دیا جائے- کچھ حصہ ان مضامین کا جلسہ کے موقع پر بیان کر دوں اور باقی حصہ میں خود لکھ لوں- لیکن چونکہ اس وقت یہ مضمون تفصیلی طور پر بیان نہیں ہوسکتا اس لئے آج میں اختصار کے ساتھ صرف اتنا ہی بیان کر دیتا ہوں کہ قرآن کریم پرغور کرنے اور اسے دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے کن کن مطالب پرغور کرنا چاہئے اور یہ کہ عیسائی اور دوسرے غیر مسلم اسلام اور قرآن کریم کے خلاف کتنی کوششیں کر رہے ہیں اور مسلمان اس طرف سے کتنے غافل اور لاپرواہ ہیں- میرے نزدیک قرآن کریم پر مجموعی نظر ڈالنے کے لئے مندرجہ ذیل امور پر غور کرنا ضروری ہے- ضرورت قرآن اول کیا اس وقت جبکہ قرآن کریم نازل ہوا دنیا کو کسی الہامی کتاب کی ضرورت تھی یا نہیں؟ کیونکہ جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ کوئی چیز باموقع نازل ہوئی ہے اس وقت تک خدا تعالٰے کی طرف وہ منسوب نہیں کی جاسکتی- بہت لوگ کہتے ہیں کہ جب قرآن کریم نازل ہوا تو اس وقت لوگوں کی حالت خراب تھی- مگر لوگوں کی حالت خراب ہونے کی وجہ سے ضروری نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی کتاب بھی نازل ہو- دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام اس وقت تشریف لائے جب لوگوں کی عملی حالت بالکل خراب ہو چکی تھی لیکن کیا آپ کوئی کتاب لائے- پس یہ کہنا کہ لوگوں کی عادات