انوارالعلوم (جلد 10) — Page 497
۴۹۷ خراب ہوگئی تھیں فسق وفجور پیدا ہوگیا تھا یہ اس بات کے لئے کافی نہیں کہ اس زمانہ میں قرآن کریم کی بھی ضرورت تھی- یا یہ کہ عربوں میں بد رسوم پیدا ہوگئی تھیں- بیٹیوں کو مار ڈالتے تھے- سوتیلی ماؤں سے شادی کر لیتے تھے- اس سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوگا کہ عربوں کے لئے ایک کتاب کی ضرورت تھی - یہ ثابت نہیں ہوگا کہ ساری دنیا کے لئے ضرورت تھی- جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت بنی اسرائیل کی حالت سخت خراب تھی- مگر اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ حضرت موسیٰ یا حضرت عیسیٰ علیھما السلام ساری دنیا کے لئے آئے تھے- ہمیں جو چیز ثابت کرنی چاہئے وہ یہ ہے کہ اس زمانہ میں تمام مذہبی کتب میں ایسا بگاڑ پیدا ہو گیا تھا کہ وہ اپنی ذات میں دنیا کو تسلی دینے کے لئے نا کافی تھیں- پس قرآن کریم کے نازل ہونے کی ضرورت کو ثابت کرنے کے لئے پہلی کتب میں بگاڑ ثابت کرنا ضروری ہے- قرآن کریم کی وحی کس طرح نازل ہوئی (۲)دوسرے اس بات پر روشنی ڈالنا ضروری ہے کہ قرآن کریم کی وحی کس طرح نازل ہوئی؟ کیونکہ کسی وحی کے نزول کے طریق سے بھی بہت کچھ اس کی صداقت کا پتہ لگ سکتا ہے- مثلاًاس بات پر بحث کرتے ہوئے یہ سوال سامنے آجائیگا کہ جس انسان پر یہ وحی نازل ہوئی کیا اس کے نازل ہونے کے وقت کی کیفیت سے یہ تو ظاہر نہیں ہوتا کہ اس کا نعوذباللہ دماغ خراب تھا- بیسیوں لوگ ہوتے ہیں جو کہتے ہیں ہمیں یہ یہ الہام ہوا- وہ اپنی طرف سے جھوٹ نہیں بول رہے ہوتے- مگر ان کا دماغ خراب ہوتا ہے- ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے آکر کہا کہ مجھے بھی الہام ہوتا ہے- آپ اس کی بات سن کر خاموش رہے اس نے پھر کہا- جب میں سجدہ کرتا ہوں تو خدا تعالیٰ مجھے کہتا ہے- عرش پر سجدہ کر اور کہتا ہے- تو محمد ہے- تو عیسیٰ ہے- تو موسیٰ ہے- آپ نے فرمایا- کیا جب تمہیں محمد کہا جاتا ہے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والا جمال اور جلال بھی دیا جاتا ہے یا قرآن کریم کے علوم بھی تم پر کھولے جاتے ہیں؟ اس نے کہا نہیں آپ نے فرمایا پھر خدا تعالیٰ تمہیں عرش پر نہیں لے جاتا ہے- بلکہ شیطان بہکاتا ہے اگر خدا تمہیں عرش پر لے جاتا اور محمد قرار دیتا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم والی طاقتیں بھی تمہیں آپ کی غلامی میں عطا فرماتا- تو قرآن کریم کی وحی کے نزول پر بحث کرتے ہوئے یہ سوال بھی سامنے آجائیگا