انوارالعلوم (جلد 10) — Page 470
انوار العلوم جلد ۱۰ ٢٧٠ شهر و ر پورٹ اور مسلمانوں کے مصالح اقلیتوں کی حفاظت کیلئے ہوئے ہیں ان میں پولینڈ سے یہ اقرار لیا گیا ہے کہ ان ضلعوں اور شہروں میں جہاں اقلیت ایک معقول تعداد میں رہتی ہو ۔ گورنمنٹ ذمہ دار ہوگی کہ پرائمری سکولوں میں اس کی زبان میں تعلیم دے۔ ایسے ضلعوں میں یہ بھی شرط رکھی گئی ہے کہ اگر کوئی رقم سرکاری خزانہ سے تعلیمی ، مذہبی یا خیراتی کاموں کے لئے دی جائے تو اقلیت کو بھی اس کی تعداد کے مطابق اس روپیہ میں سے حصہ دیا جائے۔ (مادہ نو) اور ان حقوق کے متعلق یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کسی صورت میں موقوف نہیں کئے جاسکتے۔ یہودیوں کے متعلق اس معاہدہ کے مادہ دس میں لکھا ہے کہ جو روپیہ یہودیوں کی تعلیم کے لئے الگ کیا جائے گا وہ یہودیوں کی منتخب کردہ کمیٹیوں کی معرفت خرچ ہو گا۔ مادہ گیارہ میں لکھا ہے کہ یہودیوں سے کوئی ایسا کام نہ کرایا جائے گا جس کی وجہ سے ان کے سبت کی حرمت میں فرق آتا ہو۔ (جمعہ کی بے قدری کرنے والے مسلمان اس سے سبق حاصل کریں۔ یہ ایک مردہ قوم کا حال ہے جب کہ مسلمانوں کا رسول میں یہ ابدی طور پر زندہ ہے) ہاں فوجی اور پولیس کی ضرورتوں کے وقت اس کا لحاظ نہیں رکھا جا سکے گا۔ انتخاب ہفتہ کے دن نہ ہوا کریں۔ الله یوگو سلیویا سے یہ عہد لیا گیا تھا کہ ان کی حکومت میں مسلمانوں کو قانون وراثت ، طلاق ، نکاح حقوق زن و شوہر کے متعلق اپنے مذہب کے مطابق عمل کرنے کی اجازت ہوگی۔ (یاد رکھنے کے قابل ہے) حکومت مساجد، تکیوں اور دوسری مسلمانوں کی عمارات کی حفاظت کی ذمہ دار ہوگی۔ اوقاف میں کسی قسم کا تصرف نہ کیا جائے گا۔ (یاد رکھنے کے قابل ہے) اور آئندہ نئے اوقاف یا ایسے صیغوں کے قیام میں کوئی روک نہ ڈالی جائے گی۔ زیکو سلویکا میں زبان کی تعلیم کو پرائمری تک محدود نہیں کیا گیا۔ البانیہ سے یہ معاہدہ لیا گیا ہے کہ اس میں ایسا طریق انتخاب جاری کیا جائے گا۔ جس میں اقلیتوں کے قومی مذہبی اور لسانی حقوق کی نگہداشت پوری طرح ہوتی جائے گی۔ جزائر الانڈ کے متعلق فن لینڈ سے یہاں تک معاہدہ لیا گیا ہے کہ جن سکولوں میں فنش زبان میں تعلیم دی جائے ان کے لئے الانڈ کے باشندوں سے روپیہ نہ لیا جائے۔ پولینڈ سے یہودیوں کے متعلق یہ اقرار بھی لیا گیا کہ یہودیوں کے مذہبی سکولوں میں تعلیم پانا بھی جبری تعلیم کے قانون کو پورا کرنے کا موجب سمجھا جائے گا۔ (مسلمان اسے بھی یاد