انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 471 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 471

۴۷۱ رکھیں) یہ بھی شرط رکھی گئی کہ یہودی ملازموں اور سپاہیوں کو نماز کیلئے وقت دیا جائے گا- انہیں ان کے مذہب کے مطابق غذا مہیا کر کے دی جائے گی- علماء فوجی جبری خدمت سے آزاد ہونگے- (یہ امور بھی فیصلہ کے وقت یاد رکھنے چاہئیں) یہ امر بھی واضح ہونا چاہئے کہ کسی قوم کے بادشاہوں کو حقیر کر کے سکولوں کی کتابوں میں نہ دکھایا جائے گا- کیونکہ اس سے قومی کریکٹر بچوں کا تباہ ہو جاتا ہے- یورپ کی بعض حکومتوں میں کیا جاتا ہے اور ہندوؤں کے دماغ کی افتاد خاص طور پر اس ناپسندیدہ طریق کے مطابق معلوم ہوتی ہے- اوپر کے بیان کردہ امور سے یہ امر بخوبی سمجھ میں آسکتا ہے کہ قومی حفاظت کے سوال کے وقت یہ نہیں دیکھا جاتا کہ بات چھوٹی ہے یا بڑی- بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ اگر اس کی حفاظت نہ کی جائے تو قوم کے کیرکٹر کا کیا حال ہوگا- پس ضروری ہے کہ مذہب اور تمدن اور زبان کی حفاظت کیلئے پورے سامان پیدا کر لئے جائیں- قوانین کے صحیح استعمال کی ضمانت میں نے بتایا تھا کہ قوانین کے صحیح استعمال کی بھی کوئی ضمانت ہونی چاہئے- کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ قانون کے صحیح استعمال کے بغیر قانون کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا- اس غرض کے پورا کرنے کے دو طریق دنیا میں مقرر ہیں-(۱)اقلیت کو اس کی تعداد کے مطابق ہر قسم کی ملازمتوں میں حصہ دیا جائے- (۲)کوئی ایسی عدالت اپیل ہو جس کے پاس اختلاف کی صورت میں معاملہ پیش کیا جا سکے- مسلمانوں کی طرف سے پہلا مطالبہ ہمیشہ پیش ہوتا رہتا ہے- اور انہیں قابلیت کا عذر پیش کر کے ہمیشہ ان کے حق سے محروم رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے- لیکن یہ عذر بالکل جھوٹا ہے- مسلمان ہر گز ناقابل نہیں ہیں بلکہ انہیں ناقابل ظاہر کیا جاتا ہے- اس کی مثالیں کثرت سے ملتی ہیں کہ ایک مسلمان انگریز افسروں کے ماتحت ہر قسم کی ترقیات کا مستحق ہوتا رہا ہے، مگر ہندوافسر کے ماتحت آتے ہی ناقابل ہو جاتا ہے- پس ان مثالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کی قابلیت میں تو کوئی شبہ نہیں ہے- ہاں اس کی قابلیت کے چھپانے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے اور انگریز حکام بھی شکایتیں کر کر کے بدظن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے- اور یہ ظاہر بات ہے کہ ہندو چونکہ پرانے زمانہ سے دفاتر میں گھسے ہوئے ہیں، وہ زیادہ بھی ہیں اور بڑے بڑے