انوارالعلوم (جلد 10) — Page 451
۴۵۱ اسی طرح بنگال کی نسبت لکھا ہے-: ‘’ہندو اقلیت گو بہت بڑی اقلیت ہے- بہت ہی غالب گمان ہے کہ اعداد کے لحاظ سے ایک بے قید انتخاب میں زیادہ نقصان اٹھائے گی- بہ نسبت اس انتخاب کے کہ جس میں محفوظ نشستوں کی قید لگی ہوئی ہو’‘- ۵۹؎ ان حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نہرو رپورٹ اس امر پر خاص زور دینا چاہتی ہے کہ محفوظنشستوں کے بغیر مسلمان بنگال اور پنجاب میں خاص طور پر غالب رہیں گے- اور ایک ایسی رپورٹ کا جسے ہندوؤں نے تیار کیا ہے اس قدر زور مسلمانوں کو زائد حقوق کے ملنے پر دینا خواہ مخواہ ہی شک میں ڈالتا ہے- اور خصوصاً جب کہ وہی رپورٹ صفحہ اکاون پر یہ تسلیم کرتی ہے کہ محفوظ نشستوں کے بغیر پنجاب اور بنگال کے مرکزی پارلیمنٹ کے لئے بجائے اپنی تعداد کے مطابق بہتر ممبر نامزد کر سکنے کے صرف تیس سے چالیس تک ممبریاں نامزد کر سکیں گے- تو اس یقین اور غالب امید کا بھانڈا اس طرح پھوٹ جاتا ہے کہ کوئی پردہ اسے چھپا نہیں سکتا- میں یہاں مختصر لفظوں میں اس امر کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اوپر کے حوالہ جات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نہروکمیٹی کے نزدیک مخلوط انتخاب کے باوجود ملک میں انتخابات کی جنگ صرف فرقہ وارانہ اصول پر لڑی جائے گی- کیونکہ اگر اس اصل کے جاری ہو جانے کے بعد ان کے نزدیک قومی خیالات میں اصلاح ہو سکتی تو کس دلیل پر مسلمانوں کو پنجاب اور بنگال میں اکثریت حاصل ہو سکتی تھی- آبادی کی تقسیم کا انتخاب پر اثر اب میں یہ بتاتا ہوں کہ آبادی کی تقسیم کا انتخاب پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا- یاد رکھنا چاہئے کہ نہروکمیٹی نے تین حلقے پنجاب کے بتائے ہیں- ایک حلقہ وہ جس میں مسلمان زیادہ ہیں- ایک وہ جس میں ہندو مسلمان کا پلڑہ برابر ہے اور ایک وہ جس میں ہندوؤں کا پلڑہ بھاری ہے- اور اس سے ثابت کیا ہے کہ چونکہ وہ علاقہ جس میں ہندوؤں کا پلڑہ بھاری ہے، تھوڑا ہے، اس لئے مسلمان بہرحال ہندوؤں، سکھوں سے فائدہ میں رہیں گے- اور یہی حال بنگال کا ہے میرے نزدیک یہ ایک مغالطہ ہے- نہرو کمیٹی نے فرض کر لیا ہے کہ انتخاب کا حلقہ ضلع ہوگا- حالانکہ انتخاب کا حلقہ ضلع نہیں ہوگا- بلکہ اس سے بہت چھوٹا علاقہ ہوگا- نہرو کمیٹی نے ہر ایک لاکھ آدمی کو ایک ممبر منتخب کرنے کا حق دیا ہے- پنجاب کی آبادی دو کروڑ چھ لاکھ پچاس ہزار ہے-