انوارالعلوم (جلد 10) — Page 452
۴۵۲ اور اضلاع اٹھائیں ہیں پس اوسطاً ہر ضلع کے حصہ میں ساڑھے سات ممبر آئیں گے- اور اس تقسیم میں یقیناً بعض حلقے ایسے ہونگے- جہاں ہندو آبادی یا سکھ آبادی ایسی حقیر نہ ہوگی جیسی کہ سب ضلع کی آبادی کے مقابلہ میں وہ نظر آتی ہے اور یہ بات اس قاعدہ کو زیر نظر رکھنے سے اور بھی زیادہ واضح ہو جاتی ہے کہ جو قوم کسی علاقہ میں کم ہو اور اس کا دوسری اقوام سے اختلاف ہو وہ بجائے دیہات میں بسنے کے شہروں میں رہتی ہے- ہندو بھی ایسا ہی کرتے ہیں- اور ان تمام علاقوں میں جہاں مسلمان زیادہ ہیں، جا کر دیکھ لو کہ ہندو ان علاقوں میں گاؤں میں نہیں بلکہ قصبوں میں بستے ہیں اور اکھٹے رہتے ہیں- اور پھر ان میں سے جو گاؤں میں جا کر کام کرتے ہیں، وہ بھی اپنی جائداد شہر میں خرید لیتے ہیں اور اپنا تعلق قصبات سے نہیں توڑتے- چنانچہ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ پنجاب میں مسلمانوں کی آبادی پچپن فیصدی اور سکھوں اور ہندوؤں کی کل آبادی تنتالیس فی صدی ہے لیکن شہروں کی نیابت میں آٹھ ممبر ہندوؤں اور سکھوں کی طرف سے منتخب ہوتے ہیں اور چھ مسلمانوں کی طرف سے- یعنی شہری آبادی کی نیابت کے لحاظ سے سکھ ہندو ستاون فیصدی ہیں اور مسلمان تینتالیس فی صدی- اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہر بالغ مرد کو ووٹ کا حق ملنے پر یہ نسبت نہ رہے گی اور ہندوؤں اور سکھوں کی نسبت کم ہو جائے گی اور مسلمانوں کی ترقی کرے گی- لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس نسبت سے ظاہر ہے کہ ہندو اور سکھ شہروں میں زیادہ بستے ہیں اور اسلامی کثرت والے علاقوں میں یہ بات اور زیادہ نمایاں ہوگی خصوصاً جب ہر بالغ کو ووٹ کا حق ملا تو ان علاقوں میں ہر ہندو اپنا ووٹ کا حق شہر میں رکھے گا- اور اس طرح اپنا حق ان علاقوں میں بھی وصول کر کے رہے گا جن میں اس کی اقلیت ہے- پس نہرو کمیٹی کا نقشہ محض دکھاوے کا ہے- اور اس کی کوئی بھی حقیقت نہیں ہے- اور یقیناً وہ زبردست فیکٹر (FACTOR) جسے نہرو کمیٹی نے بھی تسلیم کیا ہے یعنی ہندوؤں اور سکھوں کی تعلیمی اور مالی برتری وہ عمل کئے بغیر نہیں رہے گا- اب ایک ہی سوال رہ جاتا ہے اور وہ بنگال اور پنجاب کے ڈسٹرکٹ بورڈوں کے انتخاب ہیں- کہا جاتا ہے کہ ان انتخابوں میں مسلمانوں نے اپنے حق سے زیادہ حاصل کیا تھا- اور اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مسلمان باوجود کمزوری کے اپنی تعداد کی زیادتی کی وجہ سے اپنے حق سے زیادہ لینے پر قادر ہیں اور جب ہم یہ اندازہ کر لیں کہ وہ آئندہ منظم بھی ہو جائیں گے تو اس وقت تو یقیناً ایک بہت بڑا غلبہ حاصل کر لیں گے-