انوارالعلوم (جلد 10) — Page 5
۵ توپ خانوں پر کروڑوں روپیہ خرچ کرتی ہیں کیا ان کی غرض ملک میں امن قائم رکھنا ہوتا ہے یا بدامنی پیدا کرنا ؟ حکومت کا منشاء یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنے ملک اور اس کی سرحدوں پر امن قائم رکھیں تا اس کی رعایا اور ملک امن کی حالت میں ہر قسم کی ترقی کر سکے۔پس کوئی قوم اگر جائز طریقوں پر اپنی ترقی کے لئے کوشش اور اپنی حفاظت کے لئے سامان کرتی ہے اور اس مقصد کے حاصل کرنے میں کسی دوسری ہمسایہ قوم کو کوئی نقصان یا تکلیف نہیں پہنچاتی بلکہ اپنے ایک جائز حق کو استعمال کرتی ہے تو اس کی ہمسایہ قوموں کو حق نہیں پہنچتا کہ اس قوم کو ترقی کرنے سے روکیں اور یہ کہتے ہوئے روکیں کہ تم امن کے خلاف کرتے ہو۔بے شک فتنہ کی راہیں مسدود ہیں اور ہونی چاہئیں لیکن ترقی کی راہیں ہمیشہ اور ہر شخص اور ہر قوم کے لئے کھلی رہنی چاہئیں۔ہندوستان کی موجودہ حالت اس تمہید کے بعد میں اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اس وقت ہندوستان کی جو حالت ہو رہی ہے۔اور جو فتنہ و فساد ہندو مسلمانوں میں باہم ہو رہے ہیں وہ ایسے حدود کے اندر نہیں رہے کہ انہیں نظر انداز کیا جا سکے اور اتنے شاذ و نادر نہیں ہیں کہ النادر کالمعدوم کہہ کر ہم ختم کر دیں بلکہ ضرورت ہے کہ ہم ان فسادات کو امن سے بدل دیں اور ان موجبات اور اسباب کا ازالہ کریں جو آئے دن ان فسادات کو پیدا کرتے ہیں۔سارا ملک اس وقت پراکندگی، نفاق اور شقاق کا نقشہ بن رہا ہے بلکہ حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ در حقیقت نہ کسی ہندو کو اختیار ہے کہ وہ ہندوستان کو اپنا ملک کہہ سکے اور نہ کسی مسلمان کو۔اس لئے کہ کوئی اپنی چیز کو اس طرح پر تباہ و برباد نہیں کرتا۔حب وطن کا دعویٰ ایک طرف اور یہ عملی تباہی دوسری طرف۔ایک تاریخی واقعہ مجھے اس موقع پر ایک مشہور تاریخی واقعہ یاد آگیا ہے۔کہتے ہیں ایک شخص کی دو بیویاں تھیں اور ان دونوں کے دو بچے تھے۔وہ شخص کہیں باہر گیا ہوا تھا اتفاق سے ایک عورت کا بچہ بھیڑیالے گیا۔اس نے یہ سمجھ کر کہ خاوند اسی ہے زیادہ محبت کرے گا جس کا بچہ ہو دوسری عورت کے بچے پر قبضہ کر لیا تھا۔وہ شور مچاتی تھی کہ میرا بچہ ہے اور دوسری کہتی تھی کہ میرا ہے۔آخر یہ تنازعہ حضرت سلیمان علیہ السلام تک پہنچا۔اس مقدمہ کے فیصلہ کرنے میں بظاہر بڑی دقّت تھی لیکن خداتعالی نے ان کو ایک طریق فیصلہ سمجھادیا۔انہوں نے کہا کہ ایک تیز چُھری لاؤ چنانچہ جب چُھری لائی گئی تو انہوں نے کہا میں اس مقدمہ کا