انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 432

۴۳۲ اور پنجاب سے بھیج سکیں گے اور شاید ایک یا دو یوپی اور بہار سے- اور دوسرے صوبوں سے جن میں ان کی آبادی سات فی صدی سے بھی کم ہے، ان کا کسی ممبر کو بھیج سکنا قریباً ناممکن ہوگا- اور کہا گیا ہے کہ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مسلمان جو چوبیسفیصدی ہیں، انہیں صرف دس فی صدی نیابت مرکزی پارلیمنٹ میں حاصل ہو سکے گی- یہی دلیل کہا جاتا ہے کہ ان صوبوں کے متعلق بھی چسپاں ہوتی ہے- جن میں کہ مسلمانوں کی اقلیت تھوڑی ہے- ہم اس دلیل کی قوت کو تسلیم کرتے ہیں، اور اس امر کو دیکھ کر حالات سے مجبور ہو گئے ہیں کہ عارضی طور پر فرقہ وارانہ عنصر کو ملک کے انتخابی نظام میں داخل کر لیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور مسلمان اقلیتوں کے حق میں یہ استثناء کرتے ہیں کہ اگر وہ چاہیں تو ان کے لئے نشستیں ان کی آبادی کے تناسب سے مرکزی اور صوبہ جات کی مجالس میں محفوظ کر دی جائیں’‘- ۵۰؎ اس حوالہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نہرو رپورٹ کو یہ امر تسلیم ہے کہ(۱)پنجاب اور بنگال سے مسلمان حد سے حد چالیس ممبر مرکزی پارلیمنٹ میں بھیج سکیں گے- (۲)اقلیتیں مخلوطانتخاب میں خطرہ میں ہوتی ہے- اور بالکل ممکن ہے کہ سات فیصدی تک کی اقلیت اپنا ایک نمائندہ بھی نہ بھیج سکے- یہ اس رپورٹ کی شہادت ہے جس کی تائید میں اس قدر شور کیا جا رہا ہے- یہ رپورٹ تسلیم کرتی ہے کہ مخلوط انتخاب کی صورت میں اقلیتیں خطرہ میں ہوتی ہیں- حتیٰکہ وہ یہ بھی تسلیم کرتی ہے کہ ممکن ہے مدراس، بمبئی، برما اور وسطی صوبہ جات میں مسلمان مرکزیپارلیمنٹ میں ایک نمائندہ بھی نہ بھیج سکیں- اور یوپی اور بہار سے جہاں سے آبادی کے لحاظ سے مسلمانوں کے نمائندے بائیس کے قریب جانے چاہئیں وہ صرف دو تین نمائندے منتخب کرنے پر قادر ہو سکیں- نہرو رپورٹ میں مسلمانوں کی نمائندگی میں اس وقت مخلوط انتخاب کی خوبی یا مضرت پر بحث نہیں کر رہا- میں صرف اس امر پر بحث کر رہا ہوں کہ آیا نہرو کمیٹی کی رپورٹ کی تجاویز کے ذریعہ سے جس قدر نمائندگی مسلمان حاصل کرنا چاہتے تھے حاصل ہو گئی ہے یا کم سے کم جس قدر نمائندگی انہیں اس وقت حاصل ہے وہ قائم رکھی گئی ہے- اور میں بتانا چاہتا ہوں کہ خود اسی رپورٹ کی بنا پر یہ امر ثابت ہے کہ