انوارالعلوم (جلد 10) — Page 431
۴۳۱ مسلمان جو اس وقت اس رپورٹ کی تائید میں ہیں، وہ کیا سوچ کر تائید کر رہے ہیں- کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ جو کچھ واپس لیا گیا ہے وہ تو ایک یقینی چیز ہے- آٹھ ہندو صوبوں میں جو مسلمانوں کو اس وقت حق حاصل تھا- اس میں قریباً آدھا حق چھین لیا گیا ہے- یعنی کل ہندو صوبوں میں اس وقت مسلمانوں کو متفقہ اوسط کے لحاظ سے چوبیس فیصدی کے قریب حق نیابت کا حاصل تھا- لیکن آئندہ صرف چودہ فیصدی کے قریب رہ جائے گا اور اس کے مقابلہ میں مسلمانوں کو دیا وہ کچھ گیا ہے جو بالکل وہمی اور خیالی ہے- بہت بڑا دھوکا کہا جاتا ہے کہ یہ حق جو مسلمانوں کو دے دیا گیا ہے کہ آئندہ مسلمان اپنے حق کے علاوہ جس قدر اور نشستوں کے لئے چاہیں گے، ہندوؤں کے مقابلہ پر کھڑے ہو سکیں گے- اس سے ان کے لئے راستہ کھول دیا گیا ہے- وہ اس کے ذریعہ سے ترقی کر سکتے ہیں اور ہندوؤں سے اپنے حق سے زیادہ نشستیں چھین سکتے ہیں- یہ خیال بالکل دھوکا ہے- اور اس کی تائید میں جو باتیں پیش کی جاتی ہیں وہ یا جہالت پر یا کم عقلی پر یا دنیا کی تاریخ سے ناواقفی پر دلالت کرتی ہیں- نیابت مطابق آبادی کے دلائل پہلی دلیل سب سے پہلی دلیل جو میں اس خیال کے رد سے پیش کرنا چاہتا ہوں وہ خود نہروکمیٹی کی اپنی شہادت ہے- جیسا کہ میں اوپر بیان کر آیا ہوں، کہا جاتا ہے کہ محفوظ نشستوں کے طریق کو چھوڑنے میں مسلمانوں کا فائدہ ہے- کیونکہ اس طرح وہ اپنے حق سے زیادہ لے لیں گے- نہرو کمیٹی بھی اس دلیل کو صحیح سمجھتی ہے اور کہتی ہے کہ ہم نے مسلمانوں پر یہ احسان کیا ہے کہ انہیں آزاد مقابلہ کا حق دے کر ان کے لئے ترقی کا راستہ کھول دیا ہے- ۴۹؎ لیکن عجیب بات ہے کہ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ اقلیتوں کا کلی طور پر اپنے حق سے محروم ہو جانا بالکل ممکن ہے- نہرو رپورٹ بیان کرتی ہے- ‘’بے قاعدہ کانفرنس کے ریزولیوشن کے پاس ہونے کے بعد یہ بات ہمارے نوٹس میں لائی گئی ہے کہ مسلمان اقلیتوں کو اس سے سخت نقصان پہنچے گا جو کہ زیادہ سے زیادہ تیس یا چالیس ممبر تک مرکزی پارلیمنٹ کے لئے جس کے پانچ سو ممبر ہونگے، بنگال