انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 430 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 430

۴۳۰ ہوگا- گویا اس تجویز کے مطابق مسلم لیگ کے مطالبہ کا پورا کرنا تو الگ رہا- جو کچھ مسلمانوں کو پہلے مل رہا تھا- وہ بھی ان سے چھین لیا گیا ہے- مسلم لیگ تو یہ طلب کر رہی تھی کہ جو حق اب مسلمانوں کو مل رہا ہے- اس قدر حق مسلمانوں کے لئے محفوظ کر لیا جائے اور اس سے زائد نشستوں میں ہندوؤں کا مقابلہ کرنیکی مسلمانوں کو اجازت ہو- اور یہی حق ان صوبوں میں ہندوؤں کو مل جائے- جن میں مسلمانوں کی کثرت بہت زیادہ ہو- لیکن نہرو رپورٹ صرف اسی قدر حق مسلمانوں کا رکھتی ہے جو مسلمانوں کی آبادی کے لحاظ سے انہیں ملنا چاہئے- جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مسلمان جو یوپی میں ۱۵ فیصدی ہیں لیکن تیس فیصدی حق نیابت انہیں مل رہا ہے- آئندہ انہیں صرف پندرہ فیصدی کا حق حاصل ہوگا- اس سے زیادہ اگر وہ زور سے لے سکیں، تو لے لیں- بہار جس میں مسلمان دس فیصدی سے بھی کم ہیں لیکن اس وقت بیس فیصدی کے قریب حق لے رہے ہیں، آئندہ انہیں صرف دس فیصدی کا حق حاصل ہوگا اور مدراس میں مسلمانوں کی آبادی چھ فیصدی کے قریب ہے، اور اس وقت انہیں حق نیابت بارہ فیصدی کے قریب ملا ہوا ہے- نہرو رپورٹ کی تجویز کے مطابق آئندہ وہاں مسلمانوں کو صرف چھ فیصدی حق حاصل ہوگا- آسام میں مسلمانوں کی تعداد اکیس فیصدی کے قریب ہے- لیکن کونسلوں میں انہیں اس وقت تیس فیصدی تک کا حق حاصل ہے- نہرو رپورٹ کے مطابق آئندہ انہیں صرف اکیس فیصدی نیابت کا حق حاصل ہوگا- بمبئی جس میں مسلمانوں کی آبادی بیس فیصدی کے قریب ہے- لیکن حق نمائندگی ایک ثلث کے قریب انہیں حاصل ہے، آئندہ صرف بیس فیصدی انہیں ملے گا- غرض نہرو رپورٹ نے جو سفارش کی ہے- اس کی رو سے ہر صوبہ میں مسلمانوں کی نیابت نصف سے لیکر ایک تہائی تک کم ہو جائے گی- اور اس کے مقابلہ میں جو کچھ ملا ہے- وہ یہ ہے کہ پنجاب اور بنگال میں اور دوسرے صوبوں میں سے جو کچھ مسلمان زور سے لے سکیں لے لیں- یہ تقسیم بالکل ایسی ہے جیسا کہ کہتے ہیں کہ ایک بخیل ہندو راجہ نے اپنے پروہت کو خوش ہو کر وہ گائے بخش دی تھی جو ایک سال پہلے گم ہو چکی تھی- مگر اس کا لڑکا جو اس سے بھی زیادہ بخیل تھا- گھبرا کر بول اٹھا کہ پتا جی وہ تو شاید یہ تلاش کر لے- اسے وہ گائے دیجئے جو پرارسال مر گئی تھی- لکھنؤ پیکٹ )LUCKNOWPACT) نے مسلمانوں کی جان نکالنے کی کوشش کی تھی- نہرو رپورٹ نے کھال تک ادھیڑنے کا تہیہ کیا ہے- مجھے تعجب ہے کہ وہ