انوارالعلوم (جلد 10) — Page 4
انوار العلوم جلد 10 مسلمانوں کی انفرادی اور قومی ذمہ داریاں اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے ایک بات میں شروع میں کہہ میں کہہ دینا چاہتا ہوں کہ ہمارے مذہب کا نام اسلام ہے اور اس اسلام میں داخل ہونے کا نام ایمان اور اسلام کے معنے جہاں اپنے آپ کو کلیۂ خدا۔ پ کو کلیہ خدا کے سپرد کر دینا ہے وہاں اس کے معنوں میں یہ بات داخل ہے کہ مسلم اپنے آپ کو بھی سلامتی میں رکھتا ہے اور دوسروں کو بھی سلامتی بخشتا ہے۔ اسلام میں داخل ہونے کا نام ایمان ہے اور یہ لفظ میمن یا امن سے نکلا ہے۔ اور اس کے معنے برکت یا امن کے ہیں اس لئے ایمان کے معنے جہاں مان لینے کے ہیں امن دینے کے بھی ہوتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ مؤمن خود بھی امن میں ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی امن دیتا ہے۔ قرآن مجید میں خدا تعالیٰ کا نام بھی مؤمن ہے۔ اس سے یہ مطلب نہیں کہ وہ کسی دوسرے خدا پر ( نَعُوذُ بِاللهِ ) ایمان لاتا ہے بلکہ یہ کہ دنیا کو امن بخشا ہے۔ پس میں اپنے ان دوستوں کو جو اس نام میں میرے شریک ہیں جس کو میں نے اختیار کیا ہے یعنی مسلم اور مؤمن اور ان دوستوں کو جنہوں نے اس نام کو قبول نہیں کیا بتا دینا چاہتا ہوں کہ :۔ میرے مذہب کی بنیاد امن و سلامتی پر ہے اگر اس مذہب کے پیروؤں میں سے کوئی شخص خواہ وہ کوئی بھی ہو اس تعلیم اور مفہوم کے خلاف کرے گا تو اس کا یہ فعل سراسر نا جائز اور ناروا ہو گا اور اس کی ذمہ داری اس پر ہے نہ اسلام پر۔ اگر میں (خدا نخواستہ ) تعلیم اسلام کے خلاف کروں تو اس کی ذمہ داری مجھ پر ہوگی نہ میرے مذہب پر۔ ایسی حالت میں یہ غلطی ہو گی ان لوگوں کی جو کسی شخص کی ذاتی ذمہ داری کو اسلام یا اس کی تعلیم کی طرف منسوب کریں کیونکہ جس مذہب کا نام اور کام امن اور صلح پر مشتمل ہو وہ اس کے خلاف تعلیم نہیں دیتا جہاں اسلام امن اور صلح کی تعلیم دیتا ہے۔ وہاں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ امن کے معنے نفس کو مٹا دینے کے نہیں اور نہ شخصی اور قومی برتری اور حفاظت کے لئے سعی کرنا امن کے خلاف ہے بلکہ اپنی یا قوم کی ترقی کے لئے جائز طریقوں سے سعی کرنا خود حفاظتی اور امن کا ذریعہ ہے۔ جس طرح بعض لوگ کسی کے ذاتی فعل کو جو تعلیم اسلام کے خلاف ہو اسلام کی تعلیم قرار دینے میں غلطی کرتے ہیں اسی طرح جب کوئی شخص اپنی یا قومی ترقی اور حفاظت خود اختیاری کے لئے سعی کرتا ہے تو وہ اسے خلاف امن سمجھتے ہیں اور یہ بے انصافی اور غلطی ہے۔ تو وہ اسے امن سمجھتے اور یہ بے اور غلطی دیکھو حکومتیں وہ کسی ملک اور کسی قوم کی ہوں فوجیں اور پولیس رکھتی ہیں اور ان فوجوں اور