انوارالعلوم (جلد 10) — Page 425
۴۲۵ بنگالی بولنے والے علاقوں کا مطالبہ کہ انہیں بنگال سے ملا دیا جائے ایک معقول اور جائز مطالبہہے’‘- مسٹر سوباش چندرا بوس کے اس مطالبہ کے متعلق کمیشن نے ہوشیاری سے بحث نہیں کی- کیونکہ فتنہ خوابید کو جگانے کی کیا ضرورت تھی- لیکن انہوں نے اس خیال کو پیش کر کے آئندہ کے لئے راستہ کھول دیا ہے کیونکہ وہ اپنی رپورٹ میں خود یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ صوبہجات کی نئی تقسیم زبان اور کثرت آبادی کی خواہش کے مطابق ۴۶؎ہونی چاہئے- اور یہ انہوں نے تسلیم کر لیا ہے کہ ان لوگوں کی زبان بنگالی ہے- اور ان کی خواہش بھی ہے کہ اپنے بنگالیبھائیوں سے انہیں ملا دیا جائے- پس جب ان کے اس فقرہ کو بھی مدنظر رکھ لیا جائے- کہ ‘’یہ بات واضح ہے کہ صوبہ جات کی تقسیم نئے سرے سے ہونی چاہئے’‘- ۴۷؎تو صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ بنگال کی ایسی تبدیلی کی طرف اشارہ کر دیا گیا ہے کہ جس میں ہندو عنصر مسلمانوں سے زیادہ ہو جائے گا- پنجاب کی مسلم اکثریت کو خطرہ اس فقرہ سے کہ ‘’یہ بات تو واضح ہے کہ صوبہ جات کی تقسیم نئے سرے سے ہونی چاہئے’‘- پنجاب بھی باہر نہیں- اور اس کی داغ بیل اگر رپورٹ لکھنے والوں کے ذہن میں نہ تھی تو اب بعد میں پڑنے لگ گئی ہے- چنانچہ پنجاب کی نیشنل پارٹی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پنجاب کے متعلق انہیں نہرورپورٹ کا فیصلہ منظور ہے بشرطیکہ مغربی اضلاع صوبہسرحدی میں شامل کر دیئے جائیں- اور میرٹھ کمشنری پنجاب میں )سول اینڈ ملٹری گزٹ) یعنی انہیں یہ فیصلہ اس صورت میں منظور ہے کہ پنجاب میں مسلمانوں کی اکثریت کو توڑ کر ہندو اکثریت کر دی جائے یہ تجویز نہ معلوم کب تک زور پکڑے- مگر بہر حال اب عملی سیاست کے صفحات پر آگئی ہے اور ہندو مرکزی اکثریت اگر ایسا کرے تو اس میں کیا روک ہو سکتی ہے- نہرو رپورٹ نے مسلمانوں کو کیا دیا پس موجودہ صورت حالات یہ ہے کہ مسلمانوں نے چاہا تھا- پنجاب، بنگال، سرحدی صوبہ، سندھ اور بلوچستان آزاد اور خود مختار اسلامی صوبے ہوں- نہرو رپورٹ سندھ کو ایک نیم آزاد حکومت دینا چاہتی ہے- بنگال کی اسلامی اکثریت کو ہندو اکثریت میں تبدیل کرنے کا اشارہ کرتی ہے- اور اپنے پیش کردہ اصول کے مطابق اسے ناقابل رد مطالبہ قرار دیتی ہے- پنجاب کے متعلق ایک