انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 423 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 423

۴۲۳ کے عقیدہ کا اظہار نہیں کرتے- وہ اپنی اور سفارشوں کے متعلق (اور نہرو رپورٹ ہے ہی آئندہ کے متعلق) کسی جگہ پر یہ فقرہ استعمال نہیں کرتے- پس اس جگہ ان الفاظ کا استعمال صاف بتاتا ہے کہ یہاں خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں اپنی بے بضاعتی کا اقرار نہیں ہے، بلکہ مسلمانوں کے مقابلہ میں اپنی طاقت کا مظاہر ہے- سندھ کی مالی حالت کی شرط اسی طرح وہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ مالی حالت سندھ کی اس قابل ثابت ہو کہ وہ آزاد کیا جا سکے- یا وہاں کے لوگ بوجھ اٹھانے کے لئے تیار ہوں- تب سندھ کو آزاد کیا جائے گا- یہ شرط بھی ایسی ہے کہ اس میں آئندہ کے لئے سندھ کی آزادی میں روک ڈالنے کا دروازہ کھلا رکھا گیا ہے- کیونکہ بالکل ممکن ہے کہ مالیکمیشن سندھ کو آزادی کے قابل قرار ہی نہ دے- اور سندھ کے لوگ جب بوجھ اٹھانے پر آمادگی ظاہر کریں تو ان کے لئے ایک ایسی حکومت کی تجویز پیش کی جائے جس کی ناز برداری ان کے لئے ناممکن ہو- کیونکہ سندھ کے ہندو مسلمانوں کے اجتماعی مطالبہ کے جواب میں کمیشن والے خود لکھ چکے ہیں کہ ہم یہ نہیں کر سکتے کہ تمہاری مالی حالت کو مدنظر رکھ کر ایک ایسی گورنمنٹ کی تجویز کو منظور کر لیں جو تمہاری مالی حالت کے مطابق ہو- ۴۴؎پس ان باتوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ سندھ کی آزادی کے راستہ میں ہر قسم کی روکیں ڈالی جائیں گی- اور تسلیاں جو دی گئی ہیں، صرف طفل تسلیاں ہیں- اس سے زیادہ ان کی حقیقت نہیں ہے- کسی کا یہ کہنا درست نہ ہو گا کہ بدظنی کیوں کی جاتی ہے- کیونکہ یہ پرائیویٹ معاملہ نہیں ہے، قومی سمجھوتا ہے- اور قومی سمجھوتوں میں ہر ایک لفظ کا دیکھنا اور اس پر غور کرنا فرض ہے- اور جو ایسا نہیں کرتا وہ قومی غدار ہے نہ کہ حسن ظن کرنے والا مومن- آگے معاہدات کے الفاظ کی جانچ پڑتال نہ کرنے کے سبب سے ترکی اور عرب اور ایران اور مصر سخت نقصان اٹھا چکے ہیں اور یہ بد قسمتی ہوگی اگر پچھلے واقعات سے مسلمان فائدہ نہ اٹھائیں اور ان سے درس عبرت نہ لیں- سندھ کو کیسی آزادی دی جائے گی تیسری بات جس کی طرف کمیٹی نے اشارہ کیا ہے وہ یہ کہ ضروری نہیں کہ سندھ پوری طرح آزاد کیا جائے- کیونکہ آزادی کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اقتصادی آزادی بھی اسے حاصل ہو- اور تمام محکمہ جات گورنمنٹ بھی اسے حاصل ہوں- میں نہیں سمجھ سکتا کہ اقتصادی آزادی حاصل نہ