انوارالعلوم (جلد 10) — Page 411
۴۱۱ عقل اسے باور کر سکتی ہے کہ انگریز اس غرض کے لئے ہندوؤں کو ہی اپنا آلہ کار بناتے ہیں- کبھی مسلمانوں کو یہ سبق نہیں پڑھاتے کہ ہندوؤں کو نالائق قرار دے کر نکالنے کی کوشش کرو- تیسرے کئی گورنمنٹ افسر بعد میں قومی لیڈر بن گئے ہیں- کیا ان میں سے کوئی شخص یہ اقرار کرتا ہے کہ اسے انگریز کہا کرتے تھے کہ تو ہندوؤں کو لائق قرار دے اور مسلمانوں کو نالائق بنا بنا کر نکالتا جا- میں تو دیکھتا ہوں کہ یہ مرض اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ اب بعض ہندوافسر برملا مسلمان امیدوار کو کہہ دیتے ہیں کہ تم پر کوئی کیس کھڑا کروں یا یونہی اپنی مرضی سے فلاں عہدہ سے دست برداری دے دو گے- میرے پاس ایسی مثالیں موجود ہیں لیکن افسوس کہ اس کا علاج موجود نہیں- یہی حال تعلیمی محکموں میں ہے- تعلیم کے دروازے مسلمانوں کیلئے بند کئے جا رہے ہیں مسلمان زیادہ فیل کئے جاتے ہیں- بعض فنون کے پروفیسر صاف کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے تمہیں پاس نہیں ہونے دینا- اور اورل )ORAL) امتحان میں فیل کر دیتے ہیں- گورنمنٹ سے وظیفہ لیتا لیتا طالبعلم جس وقت آخری منزل پر پہنچتا ہے، اس کا کیریکٹر تباہ کر دیا جاتا ہے- مسلمان دکانداروں سے ہندو سودا نہیں لیتے- اور کھانے پینے میں جو چھوت چھات ہے وہ تو ظاہر ہے ہی- سٹیجوں پر سے بھائی بھائی کا اعلان کرنا اور بات ہے- ان کروڑوں محنت کش خاندانوں میں جا کر دیکھو کہ کس طرح مسلمانوں کے گھروں میں ماتم ہو رہا ہے ہندو بنیا زمیندار کا خون چوس رہا ہے- اس سے ہندوزمیندار کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے- مگر چونکہ اس کی کوشش کا آخری نتیجہ مسلمانوں کی تباہی ہے اس کے خلاف قانون پاس نہیں ہونے دیا جاتا- اور مسلمان کے ساتھ ہندو کو اس امید میں پیسا جاتا ہے کہ اس کی حالت کو ہم بعد میں درست کر لیں گے- مسلمان اخبارات کے اشتہارات کے کالم دیکھو ہندو اخبارات سے دوگنی اور تین گنی اشاعت ہے- مگر عدالتوں کے اشتہار اور دوسرے گورنمنٹ اشتہارات ان میں بہت کم نظر آئیں گے- لیکن ہندو اخبارات ذلیل سے ذلیل بھی ان اشتہارات سے بھرے ہوئے ہوں گے- اور انہی اشتہارات کی بدولت چل رہے ہوں گے- اسلامی مسائل کونسل میں ایک نجاست کی طرح پھینکے جاتے ہیں لیکن ہندوؤں کی ہر اک ضرورت مقدم کی جاتی ہے- آج ہی کا تار مظہر ہے کہ سندھ کی علیحدگی کا سوال بمبئی کونسل میں پیش ہی نہیں ہونے دیا گیا- ان حالات کو دیکھتے ہوئے کیا کوئی عقلمند انسان بھی کہہ سکتا ہے کہ مسلمانوں کو خود حفاظتی کی ضرورت نہیں اور کیا ان