انوارالعلوم (جلد 10) — Page 407
انوار العلوم جلد ۱۰ چوتھی ۴۰۷ شهر و ر پورٹ اور مسلمانوں کے مصالح چوتھی وجہ چوتھی چیز جو اکثریت کو اقلیت کا دشمن بنا دیتی ہے یہ ہے کہ اقلیت میں کوئی بڑھنے والی طاقت موجود ہو۔ اور اکثریت کو یہ خطرہ ہو کہ کسی وقت وہ اقلیت میں تبدیل ہو جائے گی۔ اس وجہ سے وہ اقلیت کو ظالمانہ قوانین سے مٹانے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔ یہ سبب بھی ہندوستان میں موجود ہے اسلام ایک زبردست تبلیغی مذہب ہے۔ وہ اپنی کمزوری کے ایام میں بھی اپنی تعداد بڑھاتا رہا ہے۔ پچھلی مردم شماریاں اس امر پر شاہد ہیں که اسلام نہ صرف نسلاً بلکہ تبلیغی طور پر بھی بڑھ رہا ہے۔ پس یہ بات ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ ہندو قوم اس حالت کو جاری نہیں رہنے دے سکتی۔ اسے اگر اختیارات مل جائیں تو وہ پورا زور لگائے گی کہ جس مقصد کو وہ مذہبی تبلیغ سے حاصل نہ کر سکے وہ اسے جابرانہ قانون سے حاصل کرے۔ اور طاقت حاصل ہونے پر اس غرض کیلئے سینکڑوں تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں۔ جو بظاہر منصفانہ بھی ہوں اور ان سے یہ مقصد بھی پورا ہو جائے۔ پس مسلمانوں کے لئے خود حفاظتی ضروری ہے۔ اس جگہ یہ اعتراض نہیں پڑتا کہ پارٹی سسٹم (PARTY SYSTEM) تو اکثریت اور اقلیت کے مقابلہ پر ہی مبنی ہوتا ہے۔ اور باوجود اس کے اکثریت اقلیت کو تباہ نہیں کرتی۔ کیونکہ وہ اکثریت وہ اکثریت اور اقلیت تغیر پذیر ہوتی ہیں۔ آج ایک اکثریت جو ہے ، کل وہ اقلیت ہو جاتی ہے اور پھر اکثریت بن جاتی ہے۔ اس صورت میں چونکہ ہیر پھیر رہتا ہے، دشمنی پیدا نہیں ہوتی۔ لیکن یہاں اس اقلیت اور اکثریت کا سوال ہے جو سیاسی مسائل پر مبنی نہیں۔ بلکہ مذہب پر اس کی بنا ہے۔ ایسی پارٹیوں میں روزانہ تبدیلی نہیں ہوتی۔ اور بالکل ممکن ہے کہ ایک مذہب اگر زبردست ہے تو اکثریت کو اقلیت بنا دینے کے بعد وہی ملک پر ہمیشہ کے لئے قابض ہو جائے۔ پانچواں سبب جس کے باعث اکثریت اقلیتوں پر ظلم کیا کرتی ہے، اقلیتوں کا پانچویں وجہ غیر ملکی لوگوں سے تعلق ہے۔ اکثریت چاہتی ہے کہ ملک کے سب لوگ اس کے ساتھ وابستہ رہیں اور ملک کے باہر کی کسی قوم پر دوستانہ نگاہ نہ ڈالیں۔ لیکن اقلیت اپنے مخصوص حالات کی وجہ سے ملک سے باہر کی بعض اقوام سے بھی تعلق رکھنے پر مجبور ہوتی ہے۔ اس حالت میں اکثریت ہمیشہ اس سے مشتبہ رہتی ہے اور ڈرتی ہے کہ کسی وقت غیر ملکیوں سے مل کر ہمیں نقصان نہ پہنچا دیں۔ اور اس شبہ کی وجہ سے اقلیت کو نقصان پہنچانے پر تلی رہتی