انوارالعلوم (جلد 10) — Page 405
۴۰۵ بادشاہوں کو تاریخ میں نہایت خطرناک صورت میں پیش کیا ہے- تا کہ لوگ ان کی یاد کو بھول کر انگریزی حکومت سے وابستہ ہو جائیں- دوسرے اب تمام ہندو اپنی قومیت کو مضبوط کرنے کیلئے پورے زور سے شاذ و نادر صحیح لیکن اکثر جھوٹے اور مفتریانہ الزامات مسلمان بادشاہوں پر لگا رہے ہیں- وہ اپنی قوم کے نوجوانوں کو یہ یقین دلا رہے ہیں کہ ان کے مذہب، ان کی تہذیب اور ان کے تمدن اور ان کی علمی ترقی کو مسلمانوں نے آ کر بالکل تباہ کر دیا ہے- اگر وہ نہ آتے تو آج ہندو نہ معلوم کیا سے کیا ہوتے- بہت سے ہندو مردوں اور ہندو عورتوں کے سینے آج مسلمانوں کے وہمی مظالم کے خلاف غیظ و غضب کی آگ سے جل رہے ہیں- وہ اپنی قوم کی تباہی کا واحد ذمہ دار مسلمانوں کو سمجھتے ہیں- وہ ان کی تباہی پر اپنی قومی ترقی کی بنیاد رکھنا بالکل جائز خیال کرتے ہیں- اس تعصب کی حالت جہاں تک پہنچ گئی ہے، اس کا کسی قدر نقشہ اس مثال سے سمجھ میں آ سکتا ہے کہ میرے ایک رشتہ دار نے ایک استانی اپنے بچوں کی تعلیم کے لئے رکھی ہے- وہ مذہباً مسیحی ہے لیکن نسلاً ہندو ہے- اور میسور کی رہنے والی ہے- اس کا یہ حال ہے کہ تاریخ میں اگر کسی جگہ کسی مسلمان بادشاہ کا ذکر آ جائے تو وہ ان صفحوں کو چھوڑ جاتی ہے- اور جب بچے زور دیتے ہیں تو یہ جواب دیتی ہے کہ میں خوب جانتی ہوں کہ پہلے کونسا حصہ کتاب کا پڑھانا چاہئے اور بعد میں کونسا- یہ حالت ایک عورت کی ہے اور ایسی عورت کی جو خوب تعلیم یافتہ ہے- اور کئی دفعہ ولایت ہو آئی ہے- اسی پر قیاس ہندو قوم کے بہت سے افراد کا کیا جا سکتا ہے- یہ جوش و خروش ہندو قوم کا مردہ بادشاہوں کے خلاف کیوں ہے؟ کیا اپنی قوم کو بیدار کرنے کے لئے نہیں؟ اور اس ذریعہ سے جو بیداری پیدا ہوگی، کیا مسلمان اس کے نتائج سے آنکھیں بن کر سکتے ہیں یقیناً نہیں- اور اس وجہ سے وہ حقبجانب ہیں کہ ایسے قوانین کا مطالبہ کریں جن سے ان کی قومی زندگی تباہی سے بچ جائے- اور اس کی ذمہ داری ایک حد تک انگریزوں پر اور ان سے زیادہ خود ہندوؤں پر ہے- دوسری وجہ دوسری بات جس کی وجہ سے اکثریت اقلیت کو تباہ کرنا چاہتی ہے یہ ہے کہ اقلیت اپنی تہذیب اور اپنے تمدن کی وجہ سے اکثریت سے اعلیٰ ہو ایسی صورت میں اکثریت چونکہ اقلیت سے خائف ہوتی ہے- وہ اسے نقصان پہنچانا چاہتی ہے- ہندو مسلمان سوال میں یہ صورت بھی پیدا ہے- مجھے اس امر پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں کہ یہ حالت کیوں پیدا ہے لیکن اس امر میں