انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 400 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 400

انوار العلوم جلد ) ۰۰ نہرو رپورٹ اور مسلمانوں کے مصالح حفاظت کیلئے دونوں امور کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس امر کا بھی کہ قانون کا صحیح استعمال ہو اور اس امر کا بھی کہ قانون کو بدلا نہ جاسکے۔ امر اول کا انتظام ایک تو یہ کیا گیا ہے کہ لیگ آف نیشنز کو حق دیا گیا ہے کہ وہ ایسے امور کی اپیل سن سکے جو قلیل التعداد جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور اگر قلیل التعداد جماعتوں کی طرف سے کوئی شکایت پہنچے تو لیگ کمیشن مقرر کر کے دیکھ لیتی ہے کہ آیا وہ شکایت صحیح ہے یا غلط ۔ اور اس طرح قلیل التعداد جماعتوں کے حقوق محفوظ ہو جاتے ہیں۔ دوسرا انتظام یہ کیا گیا ہے کہ قلیل التعداد جماعتوں کو گورنمنٹ میں ایسا دخل دیا گیا ہے۔ جس کی بنا پر وہ اپنے حقوق کی خود نگرانی کر سکتی ہیں۔ مثلاً زیکو سلویکا میں رو تھینین قوم جو روسی قوم کی ایک شاخ ہے۔ چونکہ ایک علیحدہ تہذیب اور علیحدہ زبان اور علیحدہ مذہب رکھتی ہے۔ اس قوم کو رو تھینیا کے علاقہ میں کامل خود اختیاری حکومت دے دی گئی ہے۔ گو خارجی معاملات میں اور عام قوانین میں وہ زیکو سلویکا کے ماتحت ہے۔ یہ انتظام تو اس وجہ سے ہے کہ ایک صوبہ میں رو تھینین قوم کی کثرت ہے۔ لیکن جن ملکوں میں قلیل التعداد آبادیاں پھیلی ہوئی ہیں اور کسی صوبہ میں بھی ان کی کثرت نہیں ہے۔ وہاں ان کے حقوق کی مزید حفاظت اس طرح کی گئی ہے کہ ان کی قوم کی زبان اور ان کے مذہب اور تمدن کی حفاظت کے لئے یہ قانون مقرر کر دیا گیا ہے کہ گورنمنٹ خود اسی قوم کی کمیٹیوں کو روپیہ دے دے اور وہ اپنی نگرانی میں اپنے سکولوں اور اپنی مذہبی سوسائٹیوں کا انتظام کریں۔ دوسرا انتظام یہ کیا گیا ہے کہ قومی تعداد کے لحاظ سے ملازمتوں کو اقلیتوں کے لئے محفوظ کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح اقلیتوں کا ایک معقول عصر گورنمنٹ میں موجود رہتا ہے۔ جو یہ دیکھتا رہتا ہے کہ ان کے بھائیوں کے حقوق نہ مارے جائیں۔ اس امر کا انتظام کہ قانون بدلا نہ جا سکے۔ اس طرح کیا گیا ہے کہ اقلیتوں کے متعلق جو قانون ہے۔ اس کے لئے یہ شرط کر دی گئی ہے کہ لیگ آف نیشنز کی اجازت کے بغیر کوئی گورنمنٹ اس قانون کو نہیں بدل سکتی پس خواہ کسی گورنمنٹ کی اکثریت اس قانون کو بدلنا بھی چاہئے تو بھی وہ اپنے قانون اساسی یا اپنی بین الاقوامی ذمہ داری کے سبب سے اسے بدلنے پر قادر نہیں ہو سکتی۔ اور اگر وہ اس قانون کو زور سے توڑنا چاہے تو دوسری حکومتیں اس کی ذمہ دار ہیں کہ وہ ایسا نہ کر سکے ۔ ۳۶ نہرورپورٹ میں اقلیتوں کی کوئی حفاظت نہیں کی گئی جائے کہ منورہ میں دیا کہ نہرو کمیٹی نے