انوارالعلوم (جلد 10) — Page 399
۳۹۹ قانون کے ذریعہ سے ہو بھی جائے- لیکن اس کے صحیح استعمال کا علاج نہ ہو تو بھی اقلیتوں کو امن نصیب نہیں ہو سکتا- چنانچہ لیگ آف نیشنز میں اقلیتوں کی حفاظت کے سوال میں اس امر کو تسلیم کیا گیا ہے کہ خالی قانون نفع نہیں دے سکتا- اور اس امر کی نگرانی کی ضرورت ہے کہ اس قانون پر اس منشاء کے عین مطابق عمل بھی ہو- مثال کے طور پر استھونین گورنمنٹ کی گفت و شنید کو میں پیش کرتا ہوں- لیگ آف نیشنز نے اس حکومت سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ وہ اقلیتوں کی حفاظت کا لیگ کو یقین دلائے- لیکن اس نے اول اول انکار کیا اور جواب دیا کہ اگر ہمارے ملک میں اقلیتوں کی حفاظت کا قانون توڑا گیا- تو اس وقت لیگ دخل دے سکتی ہے- لیکن لیگ کی طرف سے جو ایجنٹ (AGENT) اس تصفیہ کے لئے مقرر کیا گیا تھا- اس نے اس جواب پر نوٹ لکھا کہ- ‘’اس جواب سے لیگ کو اس وقت تک دخل دینے کا کوئی حق حاصل نہ ہوگا جب تک قانون نہ بدلا جائے- لیکن قانون بدلے بغیر اگر استھونین گورنمنٹ اقلیتوں کو دکھ دیتی رہے تو اس کا علاج نہ ہو سکے گا’‘- لیگ نے اس نوٹ کی صحت کو تسلیم کیا اور استھونین گورنمنٹ کے جواب کو یہ کہہ کر رد کر دیا کہ تمہارے اس جواب سے اقلیتوں کی حفاظت نہیں ہوتی- اس واقع سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے سب عقلمند تسلیم کرتے چلے آئے ہیں کہ صرف قوانین کی صحت کافی نہیں ہوتی- بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ایسے ذرائع استعمال کئے جائیں کہ قوانین کے منشاء کے مطابق عمل بھی ہو- راجپال کا کیس موجود ہے اس وقت وہ سب اخبار جو اس وقت نہرو کمیٹی کی تائید میں لکھ رہے ہیں، یہ لکھ رہے تھے کہ قانون کے منشاء کے مطابق عمل نہیں ہوا- پس یہ دروازہ ہر وقت کھلا ہے اور اس کا بند کرنا ضروری ہے- (۲)دوسرے اس انتظام کی بھی ضرورت ہوتی ہے کہ آئندہ کے لئے اس قانون کو محفوظ کر دیا جائے- کیونکہ اکثریت کے لئے یہ بالکل آسان ہے- کہ وہ پہلے تو اقلیت کو تسلی دلا دے اور ان کی مرضی کے مطابق قانون بنا دے- لیکن بعد میں جب حکومت مل جائے تو پھر اس قانون کو بدل دے- کیونکہ جس طرح قانون بنانا اس کے اختیار میں ہے- اس کا بدلنا بھی اس کے اختیار میںہے- میں دیکھتا ہوں کہ یورپ کی نئی حکومتوں میں جو جنگ کے بعد قائم ہوئی ہیں، اقلیتوں کی