انوارالعلوم (جلد 10) — Page 397
۳۹۷ جائے، جسے صرف بڑے کھا سکیں اور یہ کہا جائے کہ انصاف کر دیا گیا ہے- تو کوئی شخص تسلیم نہیں کرے گا کہ انصاف کر دیا گیا ہے- یا ایک میلے میں جہاں لاکھوں آدمیوں کا ہجوم ہو- اگر کوئی شخص ایک چھوٹے بچے کو چلانے لگے کہ سب میں برابری چاہئے- تو کوئی تسلیم نہیں کرے گا کہ انصاف ہو گیا ہے- انصاف اور برابری تبھی ہو گی کہ جب اس بچے کی طاقت کے مطابق انتظام کیا جائے- اسے گودی میں اٹھا کر چلو، پھر انصاف قائم ہوگا- اور بچوں کے لئے ان کی عمر کے مطابق غذا تیار کرو پھر انصاف قائم ہوگا- عقلاً اس امر کو ثابت کر چکنے کے بعد کہ ایک قسم کا قانون ضروری نہیں کہ انصاف کے مطابق بھی ہو- بلکہ بہت دفعہ اس سے بے انصافی پیدا ہوتی ہے- میں اب یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ صرف خیال ہی نہیں ہے، بلکہ عملاً دنیا میں ایسا ہو رہا ہے کہ لوگ بظاہر ایک سا قانون بنا کر بعض اقوام کو نقصان پہنچاتے ہیں- چنانچہ ایسٹ افریقہ کے داخلہ کے متعلق جب قواعد بنائے گئے ہیں- تو اسی وقت سارے ہندوستان میں شور پڑ گیا تھا کہ گو بظاہر یہ قانون سب کے لئے یکساں معلوم ہوتا ہے- لیکن اصل غرض اس کی یہ ہے کہ ہندوستانیوں کو نقصان پہنچے- اسی طرح زیکوسلویکا کی نئی حکومت میں یہ قانون پاس کیا گیا تھا کہ جس کے پاس ۱۵۰ایکڑ سے زیادہ زمین ہو ضبط کی جائے- اور دوسرے لوگوں کو دے دی جائے اب بظاہر یہ قانون نہایت انصاف پر مبنی معلوم ہوتا ہے- لیکن اصل غرض اس کی یہ تھی کہ جرمن لوگ جو جنگ سے پہلے یہاں کے بڑے بڑے زمیندار تھے، انہیں نقصان پہنچایا جائے- زک لوگ زیادہ تر کارخانہ دار تھے- پس اس قانون سے زکس کو بہت کم نقصان کا احتمال تھا- حالانکہ بظاہر قانون منصفانہ تھا- چنانچہ اس پر جرمنوں نے بہت کچھ شور مچایا- مگر ان کی حکومت نے سنی نہیں- یہی جواب دیتی رہی کہ ہم نے انصاف کا قانون بنایا ہے- جیسا تم کو اس قانون سے نقصان ہے ویسا ہی اور قوموں کو- ۳۳؎اسی طرح رومانیانے ٹرنسلومینیا کے صوبہ میں کیا- جس میں کہ مگیار قوم کی زمینیں زیادہ تھیں- ۳۴؎ پس تاریخی واقعات سے بھی ثابت ہے کہ ایک قانون سب کے لئے یکساں بنایا جاتا ہے لیکن اس میں غرض یہ ہوتی ہے کہ کسی خاص قوم کو اس سے نقصان پہنچ جائے یا یہ کہ وہ اپنا حق نہ لے سکے- میری اس رائے سے ایل- پی- میئرز کی رائے بھی متفق ہے وہ لکھتی ہیں-: ‘’اقلیتوں پر ظلم ایک خام اور ناقص طریق سے بھی ہو سکتا ہے جیسے کہ قتل اور ملک