انوارالعلوم (جلد 10) — Page 394
۳۹۴ نکل کر اپنے غیر ملکی بھائیوں پر پڑ رہی ہو- اس وقت اکثریت اقلیت سے خائف ہوتی ہے کہ یہ لوگ کسی وقت غداری نہ کریں اور انہیں دبانا چاہتی ہے- (۶)جب اکثریت اقلیت کی گری ہوئی اقتصادی حالت کی وجہ سے نفع حاصل کر رہی ہوتی ہے اور خیال کرتی ہے کہ اقلیت کی بیداری کی وجہ سے ہمیں نقصان پہنچے گا- یہ موٹی موٹی چھ وجوہ ہیں جن میں سے بعض یا تمام کے پائے جانے پر اکثریت اقلیت کو دبانے کی کوشش کرتی ہے اور جن کی وجہ سے اقلیتوں کو بھی اکثریت سے خوف رہتا ہے- اب ان اسباب پر نظر ڈال کر ہر اک عقلمند خیال کر سکتا ہے کہ بڑی اقلیتوں کو چھوٹی اقلیتوں سے کم خطرہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں معلوم ہوتی- بلکہ جو کچھ نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ اقلیتوں کو خواہ وہ بہت ہی کم ہوں، خواہ اچھی تعداد میں ہوں، جب بھی اوپر کے حالات پیدا ہو جائیں یکساں خوف ہوگا- بلکہ حق یہ ہے کہ جب اقلیت بہت ہی تھوڑی ہو مثلاً صرف ایک فیصدی یا دو فیصدی ہو یا اس سے بھی کم ہو تو اسے کوئی خطرہ ہوتا ہی نہیں- کیونکہ اکثریت سمجھتی ہے کہ اس سے نقصان کا ہمیں کوئی خطرہ نہیں- پس مسیحیوں، بدھوں، پارسیوں وغیرہ کو جن کی مجموعی تعداد دسفیصدی بتائی گئی ہے، کوئی خطرہ نہیں ہے- خطرہ ہے تو مسلمانوں کو جن کی نسبت ہندو لوگ یہ خیال کر سکتے ہیں کہ ایسا نہ ہو کہ کسی وقت یہ لوگ بڑھ کر ہم پر غالب ہو جائیں- یورپ میں اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت دوسرے ممالک میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ بڑی اور اچھی اقلیتوں میں فرق نہیں کیا جاتا- چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ یورپ میں اقلیتوں کی حفاظت کے وقت یہ خیال نہیں کیا گیا کہ اقلیت بڑی ہے یا چھوٹی- مثلاً پولینڈ میں اقلیتوں کی تعداد اٹھائیس فیصدی سے زیادہ ہے- مگر وہاں اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کی گئی ہے- زیکوسلویکا میں جرمن ہی پچیس فیصدی کے قریب ہیں- اور باقی اقلیتوں کی تعداد ملا کر اقلیتوں کی کل تعداد چالیس فیصدی کے قریب ہو جاتی ہے- مگر اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کی گئی ہے- پس یہ کہنا کہ صرف چھوٹی اقلیتوں کی حفاظت کی جانی چاہئے نہ صرف عقل کے خلاف ہے بلکہ دنیا کے دستور کے بھی خلاف ہے- اور میں حیران ہوں کہ نہرو کمیٹی نے کس طرح جرات کی کہ اس عقل و نقل کے خلاف تھیوری کو اس دلیری سے اپنی رپورٹ میں پیش کردیا- اس جگہ میں اس امر کے بیان کرنے سے نہیں رک سکتا کہ زبردست کے لئے ہر ایک