انوارالعلوم (جلد 10) — Page 387
۳۸۷ اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ قلیل التعداد جماعتوں کی اپیلیں بھی چنداں کارگر نہیں ہو سکتیں کیونکہ ان کی مدد کرنے کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ کثیر التعداد جماعتوں سے لڑا جائے- اور دوسرے کی خاطر اس بکھیڑے میں پڑنے کو کوئی پسند نہیں کرتا- پس اس دروازہ کو بھی مسلمانوں کو بند ہی سمجھنا چاہئے- کیا مسلمان نہیں دیکھتے کہ جس وقت سے اصلاحات جاری ہوئی ہیں- انگریزوں میں سے اکثر حصہ روز بروز ہندوؤں کے ہاتھوں میں پڑتا جاتا ہے- انگریزیاخباروں کو پڑھ کر دیکھو- وہ یہ استثنائے چند سب کے سب ہندوؤں کی تائید میں ہیں- انگریز مدبروں کی تقریریں پڑھو وہ سب کے سب ہندوؤں کے نقطہ نگاہ کے موید ہیں- انگریز حکام کو دیکھو- وہ ہندو قوم کی پیٹھ پر ہاتھ دھرتے ہیں- آخر یہ کیا بات ہے- کیا مسلمان سمجھتے ہیں کہ اس کا سبب یہ ہے کہ ہندو حق پر ہیں اور مسلمان ناراستی پر- اگر ان کا یہی خیال ہے تو وہ اپنی ناراستی کو کیوں نہیں چھوڑتے اور کیوں سچائی کو اختیار نہیں کرتے- لیکن اگر یہ بات نہیں تو انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ یہ فوری تبدیلی اصلاحات کی وجہ سے ہے- چونکہ اس ملک میں نیابتی حکومت کی بنیاد ڈالدی گئی ہے- اس لئے انگریر بھی روز بروز ہندوؤں کی طرف جھک رہے ہیں- ان کے اندر وہی معقولہ تغیر پیدا کر رہا ہے کہ-: یار غالب شو کہ تا غالب شوی اور ابھی تو ابتداء ہے- جس وقت ہندوستان کو کامل نیابتی حکومت مل گئی اور اسمبلی پر ہندوؤں کا قبضہ ہو گیا اس وقت تو انگریزوں کا سب سے بڑا مقصد یہ ہو گا کہ ہندوؤں کی خوشی اور رضا کو حاصل کریں- آئرلینڈ میں اپنے ہموطنوں اور ہم مذہبوں کے مقابلہ میں اگر جنوبی آئرلینڈ والوں کی بات کو انگریزوں نے تسلیم کر لیا تھا، تو ہندوستانی مسلمانوں کا ساتھ خلاف مصالح ملکی کے وہ کب دینے لگے- پس مسلمانوں کو آج ہی ہوشیار ہو جانا چاہئے اور اپنے حقوق محفوظ کر لینے چاہئیں- ورنہ جو کچھ وہ آج چھوڑیں گے، کل انہیں کسی صورت میں نہیں مل سکے گا اور ان کے لئے دو ہی دروازے کھلے ہونگے- یا اپنے مذہب کو خیر باد کہہ کر ہندوؤں سے جا ملنا اور یا پھر آہستہ آہستہ اپنی قوم کو تباہ اور برباد ہونے دینا- کیا ان دونوں طریقوں میں سے کسی کو بھی مسلمان پسند کر سکتے ہیں؟ اگر نہیں، تو میں آج انہیں یہ کہہ کر اپنی ذمہ داری سے فارغ ہوتا ہوں کہ اپنے حقوق لینے کا یہی وقت ہے- اس وقت آپ نے غلطی کی تو پھر آپ کا ٹھکانا کہیں نہ ہوگا- پس جلد بازی سے آزاد حکومت کی لالچ میں اپنی موجودہ آزادی کو بھی نہ کھو ڈالیں اور