انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 380 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 380

۳۸۰ کے یہ امر اس کی مرضی پر منحصر ہے کہ جب چاہے برطانیہ سے اپنا تعلق توڑ دے- دوسری حدبندی اس کی کامل آزادی پر یہ ہے کہ جب تک وہ جدا نہ ہو وہ اہم خارجی معاملات کے تصفیہ میں برطانوی حکومت کے توسط سے کام لیتی ہے ورنہ اندرونی طور پر وہ پوری طرح مختار ہے- وہ نہ صرف عام قوانین اپنے لئے بنا سکتی ہے، بلکہ اپنے قانون اساسی کو بھی بدل سکتی ہے- اس قسم کی آزاد حکومت ہے جس کا مطالبہ اس وقت نہرو کمیٹی نے کیا ہے اور اس مطالبہ میں تمام ہندوستان سوائے چند لوگوں کے اس کے ساتھ شامل ہے- مگر سوال یہ ہے کہ ایسی آزاد حکومت کے قوانین میں تبدیلی کس طرح ہو سکتی ہے- کیونکہ اس وقت ہم نے اسی امر پر غور کرنا ہے کہ اگر موجودہ فیصلہ جو نہرو کمیٹی نے کیا ہے ہمارے موافق نہ ہو تو کیا ہم اسے بدلوا سکیں گے- اور اگر بدلوا سکیں گے تو کس طرح؟ سو یاد رکھنا چاہئے کہ ایسی حکومت میں قوانین کو بدلوانے کے تین ہی طریق ہیں- ۱-کثرت رائے سے قوانین کو بدل دینا- ۲-مقابلہ کر کے حکومت کو مجبور کرنا- ۳-بیرونی حکومتوں کی مدد سے حکومت کو مٹا دینا- میں دیکھتا ہوں کہ جو لوگ اس وقت نہرو کمیٹی کے فیصلہ پر متفق ہیں- وہ ان تینوں امور میں سے ایک نہ ایک کو اپنے آئندہ دکھوں کا علاج سمجھ رہے ہیں- بعض خیال کرتے ہیں کہ اگر وہ حقوق جو ہم نے آج چھوڑ دیئے ہیں، کل کو ہمارے لئے ضروری معلوم ہوئے تو ہم پھر مجالس قوانین کے ذریعہ سے قوانین کو بدلوا لیں گے- بعض خیال کرتے ہیں کہ بیشک کونسلوں کے ذریعہ سے تو ہم نہیں بدلوا سکتے لیکن اگر کسی تبدیلی کی ضرورت ہوئی تو ہم مقابلہ کر کے زور سے اپنی مرضی کے مطابق قوانین بدلوا لیں گے- بعض سمجھتے ہیں کہ ہم میں زور نہیں ہے لیکن ہندوستان کی ہمسایہ حکومتیں مسلمان ہیں ان کی مدد سے ہم ایسی حکومت کو تباہ کر دیں گے جو ہمارے حقوق کے حصول میں روک ڈالے گی- اس لئے میں الگ الگ تینوں طریقوں کو لیکر بتاتا ہوں کہ ڈومینین حکومت کے اصول کے مطابق یہ تینوں طریق بظاہر ناممکن ہیں اور ان میں سے ایک کے ذریعہ بھی مسلمان اپنے کھوئے ہوئے حقوق واپس نہ لے سکیں گے- کونسلوں کے ذریعہ مسلمانوں کا مطالبات حاصل کرنا پہلا امر کہ کونسلوں کے ذریعہ سے مسلمان اپنے مطالبات کو پورا کر لیں گے- اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ مسلمانوں کے جس قدر مطالبات ہیں سب کے سب آئندہ قانون اساسی میں مرکزی حکومت کے سپرد کئے گئے ہیں اور مرکزی حکومت میں