انوارالعلوم (جلد 10) — Page 379
۳۷۹ کے قوانین کے متعلق ویٹو کا اختیار حاصل ہے- لیکن عملاً اس کو کلی طور پر چھوڑ دیا گیا ہے- چنانچہ ۱۹۲۰ء میں کوئینزلینڈ (QUEEN'SLAND) میں ایک قانون پاس کیا گیا- جس کے خلاف وہاں کے زمینداروں نے بھی اور برطانیہ کے زمینداروں نے بھی شور مچایا کہ یہ قانون قانون اساسی کے خلاف ہے- اور اس کے معنی صرف یہ ہیں کہ گورنمنٹ زبردستی زمینداروں کی زمینیں چھین لے- لیکن برطانوی گورنمنٹ نے دخل دینے سے انکار کر لیا کہ ہم ڈومینینز کے اندرونی معاملات میں دخل نہیں دے سکتے- صرف ایک امر کا ڈومینینز کو اختیار حاصل نہیں ہے- اور وہ ان کا اپنے علاقہ کو بڑھانے اور گھٹانے کا سوال ہے- اس معاملہ میں وہ برطانیہ کی مرضی کی پابند ہیں- بیرونی تعلقات کے لحاظ سے بھی جنگ کے بعد سے ڈومینینز کو بہت آزادی حاصل ہو چکی ہے وہ اپنے طور پر مگر بعد اجازت برطانیہ کے دوسری حکومتوں سے معاہدہ بھی کر سکتی ہیں- اور ۱۹۲۴ء میں جنوبی آئرلینڈ سے معاہدہ کرتے وقت برطانیہ نے سب ڈومینینز کا حق تسلیم کر لیا ہے کہ وہ صرف اسی صورت میں جنگ میں برطانیہ کا ساتھ دینے پر مجبور ہونگی جب کہ برطانیہ پر کوئی اور حکومت حملہ آور ہو ورنہ اگر برطانیہ کسی اور حکومت سے جنگ کرے تو لازمی نہیں کہ وہ اس جنگ میں شریک ہوں- بلکہ ان کی پارلیمنٹوں کو اختیار ہوگا کہ وہ خواہ عملی طور پر جنگ میں شریک ہونے کا فیصلہ کریں، خواہ علیحدہ رہنے کا- معاہدات کے متعلق بھی تسلیم کر دیا گیا ہے کہ اگر ڈومینینز سے کسی معاہدہ کے متعلق مشورہ نہ کیا جائے گا اور ان کی طرف سے اس معاہدہ پر دستخط نہ ہونگے- تو ڈومینینز پر اس معاہدہ کا کوئی اثر نہ ہوگا- ۱۹۲۴ء میں مسٹر بونرلسابق وزیراعظم نے امپیریل کانفرنس کے سامنے تقریر کرتے ہوئے اس امر کا اقرار کیا کہ ڈومینینز کو یہ بھی حق ہے کہ جب وہ چاہیں، برطانیہ سے علیحدگی کا اعلان کر کے کامل طور پر آزاد ہو جائیں- ساؤتھ افریقہ اور کینیڈا کی حکومتیں بھی اپنے اپنے طور پر اس حق کے حاصل ہونے کا اعلان کر چکی ہیں- ۲۰؎ اوپر میں نے جو ڈومینینز کی حکومت کے قواعد بتائے ہیں، ان سے صاف ظاہر ہے کہ ڈومینین کی حکومت سے مراد ایک آزاد حکومت ہے- صرف اس فرق کے ساتھ کہ فی الحال وہ برطانیہ کے بادشاہ کو اپنا بادشاہ تسلیم کرتی ہے- اور اپنے آپ کو برطانوی حکومت کا جزو تسلیم کر کے اس کی شوکت کو بڑھاتی ہے اور اس کے رسوخ سے خود فائدہ اٹھاتی ہے- مگر باوجود اس