انوارالعلوم (جلد 10) — Page 365
۳۶۵ اس کے یہ معنی نہیں کہ کلکتہ لیگ ان کے مخالف ہے- مثلاً حکومت اتحادی کا مطالبہ ان مطالبات میں شامل نہیں- لیکن جب ہم ان تقریروں کو دیکھتے ہیں- جو اس موقع پر کی گئی تھیں- تو ہمیں ‘’اب نو ہندو صوبوں کے مقابل پر پانچ مسلمان صوبے ہونگے اور جو سلوک بھی ہندو ان نو صوبوں میں مسلمانوں سے کریں گے مسلمان وہی سلوک اپنے پانچ صوبوں میں ہندوؤں سے کریں گے کیا یہ ایک بڑی کامیابی نہیں ہے؟ کیا مسلمانوں کے حقوق کو محفوظ رکھنے کیلئے ایک نیا ہتھیار نہیں مل گیا؟’‘ ۶؎ یہ فقرہ بتاتا ہے کہ مولوی ابوالکلام صاحب آزاد کے ذہن میں اس وقت یہی تھا کہ صوبہجات کامل طور صاف معلوم ہوتا ہے کہ کلکتہ لیگ کے ممبروں کے دماغ میں یہ بات موجود تھی کہ صوبہ جات کو کامل آزاد حکومت حاصل ہوگی- مثلاً مولانا ابوالکلام آزاد نے جو تقریر اس وقت کی تھی اس کا مندرجہ ذیل فقرہ اپنے مضمون پر خود شاہد ہے- وہ فرماتے ہیں-: پر خود مختار ہونگے، ورنہ اگر سب اہم اختیارات مرکزی حکومت کے ہاتھ میں ہونے تھے اور صوبہ جات کے کاموں میں اسے دخل دینے کا اختیار حاصل ہونا تھا تو پھر مسلمانوں کو کونسا نیا ہتھیار ملتا ہے- مرکزی حکومت جس میں ہندو اکثریت لازمی ہے، ہر وقت مسلم صوبہ جات کے کام میں دخل دے سکتی ہے جیسا کہ نہرو رپورٹ والوں نے دبے الفاظ میں سندھ کے ہندوؤں سے وعدہ بھی کیا ہے- یا اسی طرح مثلاً زبان کا سوال ہے- کلکتہ لیگ نے زبان کے سوال کو نہیں اٹھایا- لیکن اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ اس سوال کو اہمیت نہیں دیتی تھی، بلکہ محض اس وجہ سے کہ اس سوال کو کانگریس پہلے حل کر چکی تھی اور ملک کی زبان ہندوستانی یا اردو تسلیم کر چکی تھی- جس کی تحریر فارسی یا ناگری رسم الخط دونوں میں جائز ہوگی- پس کلکتہ لیگ نے یہ سمجھا کہ جو فیصلہ کانگریس پہلے کر چکی ہے اسے نہرو کمیٹی نظر انداز نہیں کرے گی- غرض گو بعض باتیں کلکتہ سیشن کے ریزولیوشن میں نہیں ہیں- لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کلکتہ سیشن ان کے مخالف تھا- کلکتہ سیشن جس امر میں لاہور سیشن کے مخالف ہے، وہ صرف یہ بات ہے کہ لاہور کہتا ہے ان صوبوں کا الگ کرنا ہمارا حق ہے- پس ہم اس حق کا مطالبہ بھی کریں گے- اور جداگانہ انتخاب کو بھی اس وقت تک نہیں چھوڑیں گے جب تک کہ ہمیں ہندوؤں پر اعتماد پیدا نہ ہو جائے- اور ہم یہ نہ دیکھ لیں کہ وہ اپنے روپیہ اور اپنے رسوخ