انوارالعلوم (جلد 10) — Page 366
۳۶۶ کو ہمارے تباہ کرنے پر خرچ نہیں کرتے- اس اختلاف کے سوا کوئی اصولی اختلاف کلکتہ اور لاہور میں نہیں ہے- اور کلکتہ سیشن (SESSION) کے بانی مبانی اور اس کے روح رواں مسٹرجناح جنہوں نے شملہ کی آل مسلم کانفرنس میں مسلمانوں کی رائے کا اچھی طرح موازنہ کر لیا تھا، وہ اس امر کو جانتے تھے کہ مسلمانوں کی اکثریت ان کے ساتھ نہیں بلکہ لاہور کے ساتھ ہے- چنانچہ انہوں نے اپنی تقریر کے دوران میں فرمایا تھا-: ‘’ہمیں (کلکتہ لیگ کے بانیوں کو) اس کمرہ میں اکثریت حاصل ہے- لیکن کیا ہمیں ملک میں بھی اکثریت حاصل ہوگی؟- (اس پر لوگوں نے کہا- ہاں)مسٹر جناح نے کہا کہ میرے لئے اس سے زیادہ کوئی امر خوش کن نہ ہوگا- مگر انصاف یہ چاہتا ہے کہ میں اقرار کروں کہ مجھے اس پر اطمینان حاصل نہیں ہے کہ ملک کے مسلمانوں کی اکثریت ہماری تائید میں ہے’‘- ۷؎ نہرو رپورٹ کا فیصلہ میں مسلمانوں کے مطالبات کو اوپر بیان کر چکا ہوں- اور یہ بھی ثابت کر چکا ہوں کہ مسلمانوں کی دونوں پارٹیوں میں آئندہ سوراج کے متعلق کس قدر اختلاف ہے- اور یہ بھی کہ مسلمانوں کی دونوں پارٹیوں میں سے ہندوؤں کے نقطہ نگاہ کا زیادہ پاس کرنے والی کلکتہ لیگ ہے- مگر وہ بھی صاف لفظوں میں یہ فیصلہ کر چکی ہے کہ سوراج کی سکیم میں مسلمان اسی وقت شریک ہو سکتے ہیں- جب کہ اوپر کے بیان کردہ امور کا کلی طور پر فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہو جائے- گویا اوپر کے مطالبات ہندو مسلم صلح کی گفتگو کے لئے بطور بنیاد نہیں ہیں- بلکہ ان کا پہلے منظور ہو جانا ہندو مسلم کی صلح کے لئے بطور شرط ہے- اور اس امر میں لاہور لیگ ان سے متفق ہے- ان کے مخالف نہیں- کیونکہ لاہور لیگ تو ان سے بھی زیادہ مطالبہ کرتی ہے- پس اس چھوٹے مطالبہ میں کسی کمی کو وہ کب جائز قرار دے سکتی ہے- اس قدر اظہار کے بعد اب میں یہ بتاتا ہوں کہ نہرو کمیٹی مذکورہ بالا امور کے متعلق کیا فیصلہ کرتی ہے- مطالبہ اول کے متعلق نہرو کمیٹی کا فیصلہ پہلا سوال اتحادی یا فیڈرل طریق حکومت کا ہے- میں بتا چکا ہوں کہ یہ سوال سب