انوارالعلوم (جلد 10) — Page 354
۳۵۴ بہتر طریق پر ہوتی ہے ہمیں اپنے حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا- مگر ہماری جماعت کو نظر انداز کر دو- اس کمیٹی کا اصل کام ۱۹۲۸ء سے شروع ہوتا ہے اور اس وقت مسلم لیگ کے دو حصے ہو چکے تھے- ایک لاہور کی آل انڈیا لیگ کہلاتی ہے اور ایک کلکتہ کی- رپورٹ سے کہیں معلوم نہیں ہوتا- کہ لاہور کی لیگ کی نمائندگی کی بھی کوشش کی گئی- نہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ صوبہجات کی لیگوں کی نمائندگی کیلئے کوشش کی گئی- حالانکہ جن مسائل پر اختلاف زیادہ بھیانک صورت میں نمایاں ہوتا ہے- وہ آل انڈیا مسائل نہیں ہیں، بلکہ صوبہ جات کے مسائل ہیں- پس خالی آل انڈیا کی مسلم لیگ کے دونوں حصوں کی نمائندگی بھی کافی نہیں ہو سکتی تھی- آلپارٹیز کانفرنس کبھی آل پارٹیز کانفرنس نہیں ہو سکتی تھی جب تک کہ وہ سب قسم کے خیالات کے لوگوں کو دعوت نہ دے- نہرو رپورٹ ہندوستان کے لئے دو مجالس کی تجویز کو پیش کرتی ہے- ایک جس میں کل ہندوستان کے نمائندے براہ راست چنے جائیں- اور دوسری سینٹ (SENATE) جس میں ریاستہائے متحدہ امریکہ کی نقل میں صوبہ جات کی کونسلیں اپنے نمائندے بھیجیں-۲؎اگر معمولی قسم کے قوانین کے لئے جو وقتی اور جزئی ہونگے، دو قسم کی نمائندگی کی ضرورت ہے تو کیا کانسٹیٹیوشن (CONSTITUTION) کے سوال کے متعلق اس امر کی ضرورت نہیں تھی کہ صوبہ جات کی لیگز کے نمائندے بھی طلب کئے جاتے تا کہ وہ اپنے اپنے نقطہ نگاہ کو پیش کر سکیں- کیا یہ بات آل پارٹیز کانفرنس کی نظر سے پوشیدہ تھی کہ کئی صوبہ جات کی کثرت مرکزیانجمن کی کثرت کے مخالف ہے- پھر مرکزی انجمن کی نمائندگی قانون اساسی کے حل کے لئے کس طرح کافی ہو سکتی تھی- مثال کے طور پر پنجاب، بنگال، سندھ، یوپی اور صوبہ سرحدی کے مسلمانوں کو لے لو- ان میں سے اکثر کے خیالات نیابت کے طریق کے متعلق کلکتہ لیگ سے مختلف ہیں- پھر کلکتہ لیگ کے نمائندے ان لوگوں کے نمائندے کس طرح ہو سکتے تھے- آلپارٹیز کانفرنس اگر ملک کی نمائندہ کہلانا چاہتی تھی- تو اسے چاہئے تھا کہ ہر ایک صوبہ کی انجمنوں کو بھی دعوت دیتی- اور ساتھ ہی یہ بھی لکھتی کہ ان کی طرف سے جو نمائندے آئیں وہ صرف اکثریت کے نمائندے نہ ہوں- بلکہ اقلیتوں کے نمائندے بھی شامل ہوں تا کہ ہندوستان کی مختلف جماعتوں کے خیالات کو سننے کے بعد کسی فیصلہ پر پہنچا جائے- لیکن نسبتی نیابت کی حمایت کا دعویٰ کرنے والے کرتے ہیں تو کیا صرف ان انجمنوں کو دعوت دیتے ہیں جو