انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 355

۳۵۵ اصولاً ہندو نقطہ نگاہ سے متفق ہیں- یعنی مشترک انتخاب کے حامیوں کو- ان انجمنوں کے ناموں کو پڑھ جاؤ جن کے نام نہرو رپورٹ کے صفحہ ۲۰ و ۲۱ پر لکھے ہیں- ایک انجمن بھی ان میں ایسی نہیں ہے کہ جو جداگانہ انتخاب کی حامی ہو- پس صرف ان انجمنوں کو بلانا جو پہلے سے اس اصل پر متحد تھیں- جس کے متعلق ہندوستان کے مسلمانوں کا ایک بڑا حصہ اختلاف رکھتا ہے کیا یہ نہیں بتاتا کہ یہ کانفرنس آل پارٹیز کانفرنس نہ تھی بلکہ ایک خیال کی مختلف جماعتوں کی کانفرنس تھی- آل انڈیا مسلم کانفرنس شملہ اس سوال کی حقیقت اس واقعہ کے یاد کرنے سے پوری طرح کھل جاتی ہے جسے نہرو کمیٹی نے دبا دیا ہے- اور وہ شملہ کے مسلمانوں کی آل پارٹیز کانفرنس ہے- نہرو کمیٹی نے اس امر کا تو ذکر کیا ہے کہ دہلی میں مسلم لیڈروں نے ایک جلسہ کر کے بعض شرائط کے ماتحت مخلوط انتخاب کو تسلیم کر لیا تھا- لیکن یہ ذکر وہ بالکل چھوڑ گئی ہے کہ اس مشورہ کو قوم کے سامنے پیش کرنے کے لئے ایک آل انڈیا مسلم کانفرنس بھی شملہ کے مقام پر منعقد کی گئی تھی- حقیقت یہ ہے کہ جب چند مسلم لیڈروں نے دہلی میں مخلوط انتخاب کو بعض شرائط کے ساتھ تسلیم کر لیا تو اس پر ہندوستان میں بہت چہ میگوئیاں ہوئیں- اور ان لیڈروں کو معلوم ہو گیا کہ مسلمانوں کا اکثر حصہ ان کی اس تجویز سے متفق نہیں ہے- اسی عرصہ میں ناگپور میں ہندو مہاسبھا کا جلسہ ہوا- اور اس میں مسٹر کیلکر نے بحیثیت پریزیڈنٹ ایک تقریر کی- جس میں مسلمانوں کے مطالبات کے متعلق ایسا رویہ اختیار کیا کہ بعض مسلم لیڈر اپنی غلطی کو محسوس کرنے لگے- اس پر مسلم لیگ نے ستمبر ۱۹۲۷ء میں شملہ میں ہندوستان کی مختلف جماعتوں کے نمائندوں کو بلایا- اور اپنی دعوت کو صرف لیگ کے ممبروں تک محدود نہ رکھا- مجھے بھی اس موقع پر دعوت دی گئی- میں ایسی مجالس میں جایا تو نہیں کرتا- لیکن اس وقت چونکہ اتفاقاً مذہبی مسودہ قانون کی بابت کوشش کرنے کے لئے میں شملہ گیا ہوا تھا میں بھی اس آل پارٹیز مسلم کانفرنس میں شامل ہوا- دو دن کی بحث کے بعد ایک زبردست اکثریت جداگانہ انتخاب کی تائید میں ثابت ہوئی- اور اگر ووٹ لئے جاتے تو یقیناً ۷۰فیصدی ممبر جداگانہ انتخاب کی تائید میں ہوتے- جو لوگ مخلوط انتخاب کی تائید میں تھے ان میں سے بھی اکثر نے اقرار کیا کہ ان کی ذاتی رائے مخلوط انتخاب کی تائید میں ہے- لیکن ان کے ہموطنوں کی رائے جداگانہ انتخاب کے حق میں ہے- وہ ایک قابل دید نظارہ تھا- مسٹر جناح کی