انوارالعلوم (جلد 10) — Page 353
۳۵۳ سرعلی امام اور مسٹر شعیب قریشی مسلمانوں کے نقطہ نگاہ کے پیش کرنے کیلئے- مسٹر اینی اور مسٹر جیاکار ہندو مہاسبھا کی نمائندگی کیلئے- مسٹر پردہان غیر برہمنوں کے نمائندہ کی حیثیت سے- سردار منگلسنگھ سکھ لیگ کی طرف سے- سرتیج بہادر سپرو لبرل فیڈریشن کی طرف سے- مسٹر جوشی مزدوروں کی طرف سے- ان کے علاوہ مسٹر سوباس چندرا بوس اور پنڈت موتی لال نہرو بھی اس کے ممبر تھے- گویا نو ممبروں میں سے دو مسلمان اور سات ہندو ممبر تھے- رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ سر علی امام بوجہ بیماری صرف ایک اجلاس میں شریک ہوئے- اور اس طرح گویا صرف مسٹر شعیب قریشی مسلمانوں کی طرف سے نمائندہ رہے- آل پارٹیز کانفرنس تمام ہندوستان کی نمائندہ نہ تھی اوپر کے حالات خود نہرورپورٹ سے ہی لئے گئے ہیں- ان کے علاوہ بعض کارروائیاں جو پس پردہ ہوتی رہی ہیں اور جنہیں اب بعض مسلم لیڈر شائع کر رہے ہیں، میں انہیں نظر انداز کرتا ہوں- کیونکہ میرے مقصد کے حصول کیلئے خود یہی حالات کافی ہیں- ان حالات سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ کمیٹی ہر گز تمام ہندوستان کی نمائندہ نہ تھی- چند آدمی اپنی مرضی سے ایک جگہ جمع ہو گئے تھے- جن میں سے بہت سے لوگ ایسے تھے کہ انہوں نے اپنے آپ کو آپ ہی لیڈر قرار دے لیا تھا- نہ مختلف صوبوں کی نمائندگی اس میں ہوئی نہ مختلف جماعتوں کی- مثال کے طور پر میں اپنی ہی جماعت کو لیتا ہوں- ہماری جماعت سے شروع سے لیکر آخر تک کسی نے نہیں پوچھا کہ تمہاری کیا رائے ہے- حالانکہ ہم تعداد میں کس قدر بھی کم ہوں مگر پارسیوں سے زیادہ ہیں اور آل ¶انڈیا حیثیت رکھتے ہیں- ہماری مضبوط جماعتیں تین صوبوں میں پائی جاتی ہیں- یعنی پنجاب، بنگال اور صوبہسرحدی- اس کے علاوہ بہار، یوپی، مدراس اور سندھ میں بھی معقول جماعتیں پائی جاتی ہیں- اور چھوٹی چھوٹی جماعتیں تو ہر صوبہ میں ہیں- ہماری جماعت منظم ہے اور رجسٹر شدہ تعداد کے لحاظ سے اور نظام کے لحاظ سے تو شائد کوئی ہندو سوسائٹی بھی اس کے مقابلہ میں پیش نہیں کی جا سکتی- آل پارٹیز کانفرنس کے نمائندے یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہماری جماعت ایک مذہبی جماعت ہے کیونکہ ہماری جماعت اپنے مذہبی اور سیاسی مسائل کو ایک ہی پلیٹ فارم پر طے کرتی ہے- اور محض اس وجہ سے کہ ہمارے نزدیک مذہب، سیاست اور تمدن کی ضروریات کے لئے الگ الگ انجمنوں کی ضرورت نہیں ہے ایک ہی مجلس میں ان مسائل پر بحث ہو سکتی ہے بلکہ