انوارالعلوم (جلد 10) — Page 352
۳۵۲ بالا انجمنوں میں سے بہتوں نے اپنے نمائندے بھیجے- اور ۱۲/فروری ۱۹۲۸ء سے بائیس فروری تک دہلی میں اس کانفرنس کا اجلاس ہوتا رہا- اس کانفرنس نے جو ریزولیوشن پاس کئے، ان کے متعلق مسلم لیگ کی کونسل نے فوراً ہی اجلاس کر کے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کر دیا- اور اس طرح یہ آل پارٹیز کانفرنس آل پارٹیز کانفرنس نہیں، بلکہ صرف ہندو کانفرنس رہ گئی- مسلم لیگ کی کونسل نے یہ بھی ریزولیوشن پاس کیا کہ اس کے نمائندے تمام جماعتوں کے نمائندوں پر زور دیں کہ وہ لیگ کے کلکتہ کے اجلاس کے ریزولیوشن کو قبول کر لیں- اور قانون اساسی کے بنانے میں حصہ لینے سے پہلے کونسل کے پاس رپورٹ کریں کہ انہیں اس امر میں کہاں تک کامیابی ہوئی ہے گویا اس طرح لیگ نے اپنے نمائندوں کو قانون اساسی کی بنانے والی کمیٹی میں حصہ لینے سے بھی روک دیا- نہرو رپورٹ کے مرتب کرنے والے لکھتے ہیں کہ مسلم لیگ کونسل کے اس فیصلہ نے ہمیں مشکل میں ڈال دیا- کیونکہ اس فیصلہ کی رو سے مسلم لیگ کے نمائندے کمیٹی کی رپورٹ پر غور ہی نہیں کر سکتے تھے جب تک کہ مسلم لیگ کی پاس کردہ تجویز کو پورے طور پر تسلیم نہ کر لیا جاتا- یا لیگکونسل دوبارہ نئی ہدایات نہ دیتی- ان حالات میں آل پارٹیز کانفرنس ۸/مارچ کو پھر اکٹھی ہوئی- )گو یہ نہیں بتایا گیا- کہ اس دفعہ اس کانفرنس میں کون کون لوگ شامل ہوئے(- اور دو سب کمیٹیاں ایک سندھ کی علیحدگی اور دوسری نسبتی نیابت کے مسئلہ پر غور کرنے کیلئے مقرر کی گئیں- ۲۲/فروری کو جو کمیٹی مقرر کی گئی تھی- اس کی رپورٹ پر غور نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ مسلم لیگ کے نمائندوں نے اس پر بحث کرنے سے انکار کر دیا تھا- اس لئے کانفرنس نے رپورٹ کو شائع کرنے کا حکم دیا- اور ۱۹/مئی ۱۹۲۸ء تک اپنے اجلاس کو ملتوی کر دیا- اسی دوران میں ہندو مہاسبھا نے بھی اپنا ایک جلسہ اپریل کے مہینہ میں کیا- اور مسلم لیگ کے فیصلہ کے بعض حصوں کی سختی سے مخالفت کی- آل پارٹیز کانفرنس کا اجلاس بمبئی ۱۹ مئی کو آل پارٹیز کانفرنس کا اجلاس پھر بمبئی میں ہوا اور چونکہ اس وقت کے حالات کے ماتحت کسی متفقہ فیصلہ کی امید نہ ہو سکتی تھی، یہ تجویز کی گئی کہ ایک چھوٹی سی سب کمیٹی مقرر کی جائے جو سب امور پر یکجائی نظر ڈالے- چنانچہ مندرجہ ذیل اصحاب کی ایک سب کمیٹی تجویز کی گئی-