انوارالعلوم (جلد 10) — Page 351
۳۵۱ ورکنگ کمیٹی نے ان تجاویز کے شائع ہوتے ہی ایک جلسہ کیا- اور ایک ریزولیوشن پاس کیا کہ وہ مسلمانوں کے اس فیصلہ پر خوش ہے کہ انہوں نے مشترک انتخاب کی تجویز کو منظور کر لیا ہے اور امید ہے کہ ان کی پیش کردہ تجاویز کو بطور بنیاد قرار دے کر ہندوؤں اور مسلمانوں میں سمجھوتہ کرنے میں کامیابی ہو جائے گی اس کے بعد مئی ۱۹۲۷ء کو ورکنگ کمیٹی نے پھر ایک اجلاس کیا- اور مسلمانوں کی تجاویز کی بنیاد پر ایک زیادہ تفصیلی تجویز کو منظور کیا- اور ساتھ کے ساتھ انڈین کانگریس (INDIANCONGRESS) نے بھی ورکنگ کمیٹی کی تجویز کو معمولی سی اصلاح کے بعد منظور کر دیا- آل انڈیا کانگریس نے اسی اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا کہ اب ورکنگ کمیٹی کو کونسلوں کے ممبروں اور مختلف اقوام کی پولیٹیکل پارٹیوں سے مشورہ کر کے ایک سوراج کی سکیم تیار کرنی چاہئے- اور اس کی تیاری میں دوسری ایسی ہی یعنی سیاسی، مزور پیشوں کی، تجارتی اور فرقہوارانہ انجمنوں سے بھی تبادلہ خیالات کرنا چاہئے- اس کے معاً بعد لبرل فیڈریشن (LIBERALFEDERATION) نے بھی ایک ریزولیوشن پاس کیا- جس میں اس نے مسلمان لیڈروں کے اعلان پر خوشی کے اظہار کے علاوہ یہ بھی پاس کیا کہ مسلمانوں کی تجویز کے متعلق مختلف اقوام کے باقاعدہ طور پر منتخب شدہ نمائندوں کے جلد سے جلد غور کر کے ایک متفقہ فیصلہ پر پہنچنا چاہئے- لبرل فیڈریشن کے جلسہ کے بعد مسلم لیگ نے بھی ایک جلسہ کیا- اور یہ ریزولیوشن پاس کیا کہ لیگ کونسل (LEAGUECOUNCIL) ایک سب کمیٹی مقرر کرے- جو انڈین نیشنل کانگریس کی ورکنگ کمیٹی کے ساتھ مل کر ہندوستان کے لئے ایک قانون اساسی تیار کرے- جس میں مسلمانوں کے حقوق کی پورے طور پر نگہداشت کر لی گئی ہو- آل پارٹیز کانفرنس میں شامل ہونے والی جماعتیں ادھر تو لبرل فیڈریشن اور مسلملیگ نے مندرجہ بالا ریزولیوشن پاس کئے ادھر کانگریس کی ورکنگ کمیٹی نے کانگریس کے منشاء کے مطابق مختلف انجمنوں کو دعوتی رقعے بھیجے جن میں سے مسلمانوں کی دو انجمنیں تھیں- ایک تو آل انڈیا مسلملیگ- دوسری خلافت کمیٹی- اس کے مقابلہ میں پارسیوں کی چار انجمنوں کو دعوت دی گئی- ریاستوں کے باشندوں کی تین انجمنوں کو دعوت دی گئی- بقول نہرو رپورٹ کے مذکورہ