انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 339 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 339

۳۳۹ بعد کوئی نبی نہیں آئے گا’‘- ۱۲؎ سراسر غلط اور مغالطہ دہی میں شامل ہے یا نہیں- مولوی محمد علی صاحب کا فرض ہے کہ وہ پہلے حضرت مسیح موعود کی کتب کے ان حوالہجات کو رد کریں جو خود انہی کی کتاب میں منقول ہیں- اور اس کے بعد یہ دعویٰ کریں کہ مسلمان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین ان معنوں سے مانتے ہیں کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا- لیکن جیسا کہ اوپر کے حوالہ جات سے ثابت ہے بانی سلسلہ احمدیہ کے نزدیک مسلمان ان معنوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین نہیں مانتے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا بلکہ ان معنوں میں مانتے ہیں کہ آپ کے بعد پرانے نبیوں میں سے ایک نبی آئے گا اور ان کے عقیدہ اور ہمارے عقیدہ میں صرف یہ فرق ہے کہ وہ تو یہ مانتے ہیں کہ ایک ایسا نبی آپ کے بعد آئے گا جس نے نبوت آپ کی اطاعت سے حاصل نہیں کی ہو گی اور ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ ایسا نبی کوئی نہیں آئے گا بلکہ پیشگوئی ایسے نبی کے متعلق تھی جس نے اپنے تمام کمالات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے اور آپ کی اتباع میں حاصل کرنے تھے اور جس کا کام محض بیان، علوم قرآنیہ اور اشاعت اسلام اور احیائے قوائے روحانیہ تھا- پس ختم نبوت کے جلسہ میں دوسرے فرقوں کو دعوت اتحاد دے کر ہم نے دنیا کو دھوکا نہیں دیا بلکہ اپنے عقیدہ کے مطابق اعلان کیا اور اس امر میں اشتراک عمل کی دعوت دی جس میں ہمارا دوسرے فرقہ ہائے اسلام سے آپ لوگوں کی نسبت بہت زیادہ اتحاد ہے- ہاں جب آپ نے لوگوں پر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ گویا آپ کے عقیدہ کی رو سے دوسرے فرقے رسول اللہ کو خاتم النبین ماننے والے ہیں تو آپ نے ایک صریح غلط بیانی کی- ورنہ اصل عقیدہ آپ کا یہی ہے کہ تمام مسلمان فرقے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین نہیں مانتے- اور صرف آپ اور آپ کے چندساتھی اور چند ایسے نو تعلیم یافتہ لوگ جو آمد مسیح کے ہی منکر ہیں ختم نبوت کے قائل ہیں- گو اس جگہ یہ بحث نہیں کہ ہمارا عقیدہ درست ہے یا نہیں بلکہ بحث یہ ہے کہ کیا مولوی صاحب کے عقیدہ کی رو سے فی الواقعہ ہم ختم نبوت کے منکر ہیں اور دوسرے مسلمان فرقے اس کے ماننے والے ہیں- لیکن چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک حوالہ میں یہ بھی ذکر آیا ہے کہ خواہ نئے نبی کی آمد کا کوئی ماننے والا ہو یا پرانے نبی کی آمد کا وہ ختم نبوت کا منکر ہے اس لئے میں ضمنا یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ اس سے ہمارے عقیدہ پر کوئی زد نہیں پڑتی