انوارالعلوم (جلد 10) — Page 340
۳۴۰ کیونکہ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تحریر فرماتے ہیں-: ‘’صرف اس نبوت کا دروازہ بند ہے جو احکام شریعت جدیدہ ساتھ رکھتی ہو- یا ایسا دعویٰ ہو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے الگ ہو کر دعویٰ کیا جائے لیکن ایسا شخص جو ایک طرف اس کو خدا تعالیٰ اس کی وحی میں امتی بھی قرار دیتا ہے، پھر دوسری طرف اس کا نام بنی بھی رکھتا ہے، یہ دعویٰ قرآن شریف کے احکام کے مخالف نہیں ہے- کیونکہ یہ نبوت بباعث امتی ہونے کے دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ایک ظل ہے، کوئی مستقل نبوت نہیں ہے’‘-۱۳؎ اور ہم لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نبی مانتے ہیں تو اوپر کی تشریح کے ساتھ ہی مانتے ہیں- پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالہ جات کا ہم پر کوئی مخالف اثر نہیں پڑتا- اور اس کے بعد میں پھر اصل مضمون کی طرف رجوع کرتا ہوں- میں بتا چکا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالہ جات سے ثابت ہے کہ مسیح کی آمد کا عقیدہ رکھنے والا ختم نبوت کا منکر ہے- پس جب تک مولوی صاحب اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں انہیں اس امر کا اقرار کرنا پڑے گا کہ تمام غیر احمدی خواہ وہ کسی فرقے سے تعلق رکھتے ہوں ختم نبوت کے منکر ہیں- اور ان کا یہ ظاہر کرنا کہ ان کے عقیدہ کی رو سے عام مسلمان ختم نبوت کے قائل ہیں، مغالطہ دہی سے زیادہ نہیں ہے- گو اوپر کی تحریرات کے بعد مولوی صاحب اس بات کی پناہ نہیں لے سکتے کہ نئے نبی اور پرانے نبی کی آمد کے عقیدہ میں فرق ہے- اور جو لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہوں کہ پرانے نبیوں میں سے کوئی نبی آئے گا وہ تو ختم نبوت کا قائل ہے اور جو یہ عقیدہ رکھے کہ اسی امت میں سے ایک شخص کو اسلام کے قیام کے لئے رسول کریم 2] [stf صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے نبی کا نام دیا جائے گا وہ ختم نبوت کا منکر ہے- لیکن اگر وہ ایسا کریں تو میں انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک اور حوالے کی طرف توجہ دلاتا ہوں- یہ حوالہ بھی انہوں نے اپنی کتاب النبوہ فی الاسلام میں نقل کیا ہے اور وہ یہ ہے-: ‘’قرآن شریف میں مسیح ابن مریم کے دوبارہ آنے کا تو کہیں بھی ذکر نہیں لیکن ختم نبوت کا بکمال تصریح ذکر ہے- اور پرانے یا نئے نبی کی تفریق کرنا یہ شرارت