انوارالعلوم (جلد 10) — Page 333
انوار العلوم جلد ۱۰ صلی ٣٣٣ اظہار حقیقت ہر شریف انسان ان کے اس فعل پر اُنہیں ملامت کرے گا۔ مولوی صاحب یہ نہیں کہہ سکتے کہ چونکہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نبی مانتا ہوں اس لئے ثابت ہوا کہ میں رسول کریم اللہ کے خاتم النبین ہونے کا منکر ہوں کیونکہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایسا نبی ہر ہر گز نہیں مانتا کہ ان کے آنے سے رسول کریم مسلم کی نبوت ختم ہو گئی ہو اور آپ کی شریعت منسوخ ہو گئی ہو۔ ہو۔ بلکہ میرا یہ عقیدہ ہے اور ہر ایک جس نے میری کتب کو پڑھا ہے یا میرے عقیدہ کے متعلق مجھ سے زبانی گفتگو کی ہے جانتا ہے کہ میں حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کو رسول کریم ملی کا ایک امتی مانتا ہوں اور آپ کو رسول کریم میں السلام کی شریعت اور آپ کے احکامات کے ایسا ہی ماتحت مانتا ہوں جیسا کہ اپنے آپ کو یا اور کسی مسلمان کو بلکہ میرا یہ یقین ہے کہ مرزا صاحب رسول کریم میم کے احکامات کے جس قدر تابع اور فرمانبردار تھے اس کا ہزارواں حصہ اطاعت بھی دوسرے لوگوں میں نہیں ہے۔ اور آپ کی نبوت ظلی اور تابع نبوت تھی جو آپ کو امتی ہونے سے ہر گز باہر ہر گز باہر نہیں نکالتی تھی۔ اور میں یہ بھی مانتا ہوں کہ آپ کو جو کچھ ملا تھا وہ رسول کریم ملی کے ذریعہ اور آپ کے فیض سے ملا تھا۔ پس باوجود اس عقیدہ کے میری نسبت یہ کہنا کہ میں چو چونکہ مرزا صاحب کو نبی مانتا ہوں اس لئے گو میں منہ سے کہوں کہ رسول صلی الله الله صلی مولوی دھوکے باز ہوں خود ایک دھوکا ہے اور مولا النبین ہیں میں جھوٹا اور دھو۔ کریم خاتم النبین صاحب اس امر کو خوب جانتے ہیں۔ میں مولوی صاحب سے پوچھتا ہوں کہ اگر اس طرح کسی کے ایمان اور اس کے دعوئی پر باوجود اس کے انکار کے حملہ کرنا جائز ہوتا ہے تو پھر کیا میں جو مرزا صاحب کو امتی نبی مانتا ہوں اور جس کے نزدیک مرزا صاحب کا یہی دعویٰ تھا کیا میرا اور میری جماعت کا حق ہو گا کہ چونکہ مولوی صاحب مرزا صاحب کو نبی نہیں مانتے ہم ان کی نسبت یہ کہا کریں کہ مولوی صاحب اور ان کے رفقاء مرزا صاحب کے منکر ہیں اور اپنے آپ کو احمدی کہنے میں وہ دنیا کو دہ ہ دنیا کو دھوکا دے رہے ہیں۔ پھر میں پوچھتا ہوں کہ غیر احمدی طبقہ جو علماء کے ماتحت ہے ان کا یہ عقیدہ ہے کہ مردے زندہ ہو سکتے ہیں اور انبیاء کو ایسی طاقت مل جاتی ہے اور انسان به جسد عنصری آسمان پر جا سکتا ہے اور اس عقیدہ کے ماتحت ان کا خیال ہے کہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام بھی مردے