انوارالعلوم (جلد 10) — Page 323
انوار العلوم جلد ۱۰ ۳۲۳ پیغام صلح " کا پیغام جنگ عامیانہ طرز کے مقابلہ میں نہایت متانت سے لکھتے ہیں۔ خصوصاً میری تحریرات اور مولوی محمد علی صاحب کی تحریرات کا مقابلہ کیا جائے تو ہر ایک شخص کو اقرار کرنا پڑے گا کہ میں نے اپنے دامن کو بد کلامی کے داغ سے خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمیشہ پاک رکھا ہے۔ میری تحریرات بھی اور مولوی صاحب کی تحریرات بھی دنیا کے سامنے موجود ہیں۔ الفضل اور پیغام صلح کے پڑھنے والے یہ بھی جانتے ہیں کہ پچھلے دنوں میں میں نے مولوی صاحب کے متعلق کیا لکھا یا کہا ہے اور انہوں نے کیا لکھا اور کہا ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ہر فرقہ اور ہر مذہب کے شریف لوگ جو ہمارے لڑیچر کو اخباری یا علمی ضرورتوں کی میرے وجہ سے پڑھتے ہیں اس امر پر گواہی دیں گے کہ بلا وجہ بہ اور متواتر مجھ پر ظلم کیا گیا ہے ، خلاف اتہامات لگائے گئے ہیں اور مجھ پر حملے کئے گئے ہیں۔ آج ۔ آج میری زندگی میں شاید معاصرت کی وجہ سے لوگ اس فرق کو اس قدر محسوس نہ کر سکیں اور شاید گواہی دینا غیر ضروری سمجھیں یا اس کے بیان کرنے سے ہچکچائیں ، لیکن دنیا کا کوئی شخص بھی خالد اور ہمیشہ زندہ رہنے والا نہیں ہے۔ نہ معلوم چند دن کو نہ معلوم چندہ ماہ کو نہ معلوم چند سال کو جب میں اس دنیا سے رخصت ہو جاؤں گا جب لوگ میرے کاموں کی نسبت ٹھنڈے دل سے غور کر سکیں گے، جب سخت دل سے سخت دل انسان بھی جو اپنے دل میں شرافت کی گرمی محسوس کرتا ہو گا ماضی پر نگاہ ڈالے گا جب وہ زندگی کی ناپائیداری کو دیکھے گا اور اس کا دل ایک نیک اور پاک افسردگی کی کیفیت سے لبریز ہو جائے گا اس وقت وہ یقینا محسوس کرے گا کہ مجھ پر ظلم پر ظلم کیا گیا اور میں نے صبر سے کام لیا۔ حملہ پر حملہ کیا گیا لیکن میں نے شرافت کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ اور اگر اپنی زندگی میں مجھے اس شہادت کے سننے کا موقع میسر نہ آیا تو میرے مرنے کے بعد بھی یہ گواہی میرے لئے کم لذیذ نہ ہوگی۔ یہ بہترین بدلہ ہو گا جو آنے والا زمانہ اور جو آنے والی نسلیں میری طرف سے ان لوگوں کو دیں گی اور ایک قابل قدر انعام ہو گا جو اس صورت میں مجھے ملے گا۔ پس میں بجائے اس کے کہ ان لوگوں کے حملہ کا جواب سختی سے دوں، بجائے اس کے کہ گالی کے بدلہ میں گالی دوں تمام ان شریف الطبع لوگوں کی شرافت اور انسانیت سے اپیل کرتا ہوں جو اس جنگ سے آگاہ ہیں کہ وہ اس اختلاف کے گواہ رہیں، وہ اس فرق کو مد نظر رکھیں اور اگر سب دنیا بھی میری دشمن ہو جائے تو بھی ان لوگوں کی نیک ظنی جو خواہ کسی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں لیکن ایک غیر متعصب دل ان کے سینہ میں ہو ان بہترین انعاموں میں ہو گا جن کی