انوارالعلوم (جلد 10) — Page 324
۳۲۴ کوئی شخص امید کر سکتا ہے- پیغام صلح کی اس سخت کلامی کے خلاف اپنے رویہ کا ذکر کر کے میں اس چیلنج کا ذکر کرتا ہوں جو اس نے اپنے تازہ پرچہ میں دیا ہے- اس چیلنج کے الفاظ یہ ہیں- ’’ان کا اختیار ہے کہ وہ جو چاہیں کریں- صلح کریں یا جنگ کریں- ہم دونوں حالتوں میں ان کے عقائد کے خلاف جو اسلام میں خطرناک تفرقہ پیدا کرنے والے ہیں ہر حال میں جنگ کریں گے۔‘‘ ۱؎ حضرت خلیفہ اول نے ایک دفعہ تحریر فرمایا تھا کہ پیغام صلح نہیں، وہ پیغام جنگ ہے- اور آج کھلے لفظوں میں پیغام صلح نے ہمیں پیغام جنگ دیا ہے اور صرف اس بات سے چڑ کر کہ کیوں ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی حفاظت کے لئے اور آپﷺ~ کے خلاف گالیوں کا سدباب کرنے کے لئے ہندوستان اور ہندوستان سے باہر ایک ہی دن سینکڑوں جلسوں کا انعقاد کیا ہے- میں اس جرم کا مجرم بے شک ہوں اور اس جرم کے بدلہ میں ہر ایک سزا خوشی سے برداشت کرنے کے لئے تیار ہوں اور چونکہ اس اعلان جنگ کا موجب ہمارے عقائد نہیں کیونکہ ان ہی عقائد کے معتقد خود مولوی محمد علی صاحب بھی رہے ہیں اور سب فرقہ ہائے اسلام ان کے معتقد ہیں بلکہ ہماری خدمات اسلام ہیں اس لئے میں اس چیلنج کو خوشی سے منظور کرتا ہوں اور اپنی جماعت کے لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے دماغوں پر اس اعلان جنگ کو لکھ لیں- پیغام ہم سے آخری دم تک جنگ کرنے کا اعلان کرتا ہے اب ان کا بھی فرض ہے کہ وہ اس جنگ کی دفاع کے لئے تیار ہو جائیں- ہر ایک جو سچے دل سے بیعت میں شامل ہوا ہے اب اس کا فرض ہونا چاہئے کہ ان لوگوں کے اس اعلان جنگ کو قبول کرے اور ایک سچے مسلمان کی طرح جو بزدل نہیں ہوتا بلکہ بہادری سے اپنے عقیدہ پر قائم ہوتا ہے اور اپنی ہر ایک چیز کو سچائی کے لئے قربان کرنے کو تیار ہوتا ہے اس امر کے لئے تیار ہو جائے کہ وہ اس جنگ کو جو نفسانیت کی جنگ ہے، جو خود غرضی کی جنگ ہے، جو بے جا تحقیر اور بے سبب بغض کی جنگ ہے، ہر ایک جائز ذریعہ سے جلد سے جلد خاتمہ کرنے کی کوشش کرے گا- جیسا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے یہ لوگ دنیا میں قائم رکھے جائیں گے تاکہ آپ لوگ ہمیشہ ہوشیار رہیں- لیکن جیسا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے یہ بھی بتایا ہے آپ لوگ اس کے فضل سے ان پر غالب رہیں گے اور وہ ہمیشہ آپ کی مدد کرے