انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 286

۲۸۶ اسی ضمن میں آپ نے خدا تعالیٰ سے حکم پا کر کہا- یایھا الناس انا خلقنکم من ذکرو انثی وجعلنکم شعوبا و قبائل لتعارفوا- ان اکرمکم عنداللہ اتقکم ۲۶؎ تو کہہ دے کہ قومیں اس لئے بنائی گئی ہیں کہ اچھے کاموں میں ایک دوسرے سے مقابلہ کریں جس طرح دو مقابل کی ٹیمیں ہوتی ہیں- قومی مساوات کے ساتھ ساتھ آپ نے تمدنی درجہ میں بھی سب کو برابر کر دیا اور فرمایا سوائے ایسی قوموں کے جن کو حرام و حلال کا پتہ نہیں ہے باقیوں سے مل کر تم کھا پی سکتے ہو یعنی جو صاف ستھرے لوگ ہوں یا جن کے ہاں کوئی معیار حلال و حرام کے لئے مقرر ہو- ان سے کھانا پینا منع نہیں ہے- احکام انصاف میں مساوات اسی طرح احکام انصاف میں برابری رکھ کر آپ نے مساوات کو قائم کیا- خواہ کسی سے لڑائی ہو تو بھی اس کے متعلق انصاف کو قائم رکھا جائے گا- مثل¶ا کسی مسلمان کی کسی یہودی سے لڑائی ہو تو اس لڑائی میں مسلمان کو کوئی ترجیح نہ دی جائے گی- نہ معاملات میں اپنی قوم کو ترجیح دی جائے گی- جیسے مثلاً یہودیوں میں حکم ہے کہ یہودی سے سود نہ لو- مگر غیر سے لے لو- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا ہے سب بندے برابر ہیں نہ کسی مسلمان سے سود لو نہ کسی اور سے- اگر سود ظلم ہے تو ایک یہودی سے لینا ایسا ہی برا ہے جیسا کہ مسلمان سے- مساوات کا ایک بے نظیر سبق اسی طرح آپ نے فرمایا ہے- انصر اخاک ظالما او مظلوما ۲۷؎ اے مسلمان تو اپنے بھائی کی مدد کر- خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم- یہ سن کر صحابہ حیران رہ گئے کہ مظلوم کی تو مدد کی جا سکتی ہے- ظالم کی کیا مدد کی جائے اور انہوں نے کہا مظلوم کی مدد کرنا تو سمجھ میں آگیا مگر ظالم کی کس طرح مدد کی جائے- آپ نے فرمایا- ظالم کی مدد اس طرح کرو کہ اسے ظلم سے روک دو- یہ واقعہ نہ صرف اس امر کا ثبوت ہے کہ آپ نے انصاف اور مساوات کو قائم کیا ہے اور معاملات میں سب انسانوں کو برابر کیا ہے، یہ تعلیم نہیں دی کہ ہر حالت میں اپنے بھائی کا ساتھ دو بلکہ یہ تعلیم دی ہے کہ اگر بھائی ظلم کرے تو یہ خیال کر کے کہ اس کا مقابل غیر ہے بھائی کی مدد نہ کرو بلکہ ایسے وقت میں بھائی کی مدد یہی ہے کہ اس کا ہاتھ ظلم سے روکو کہ خدا کی نظر میں سب برابر ہیں- بلکہ اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ آپ کی زندگی نہایت مقدس اور پاک تھی- اگر نعوذ باللہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظالم ہوتے اور دوسروں کو نقصان پہنچانا