انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 275

۲۷۵ بلال کی پیٹھ کا چمڑا اتر جاتا تھا- مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا نشہ پھر بھی نہ اترتا تھا اور جس ایمان کی حالت میں ان پر مار پڑنی شروع ہوتی تھی- اس سے بھی زیادہ ایمان پر اس مار کا خاتمہ ہوا کرتا تھا- اب غور کرو یہ محبت اس کے دل میں کس طرح پڑ سکتی تھی- اگر وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو غلاموں کا حامی اور آزاد کرانے والا نہ سمجھتا- اس کے سوا وہ کونسی چیز تھی جو اسے آپ کے دشمن کے گھر میں رہ کر بھی آپ کی طرف مائل کر رہی تھی- سمیہ چوتھا شخص ایک عورت لونڈی تھی جن کا نام سمیہ تھا- ابوجہل ان کو سخت دکھ دیا کرتا تھا تاکہ وہ ایمان چھوڑ دیں لیکن جب ان کے پائے ثبات کو لغزش نہ ہوئی تو ایک دن ناراض ہو کر اس نے شرمگاہ میں نیزہ مار کر ان کو مار دیا- انہوں نے جان دے دی مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان کو نہ چھوڑا- اب سوچو کہ مرد تو مرد عورت لونڈیاں جو شدید ترین دشمنوں کے گھر میں تھیں انہوں نے کس قربانی کے ساتھ آپ کا ساتھ دیا ہے- اگر وہ یہ دیکھتیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم غلامی کے دشمن نہیں اس کے حامی ہیں تو کیا صنف نازک میں سے ہوتے ہوئے وہ اس طرح آپ کے لئے اپنی جان قربان کر سکتی تھیں- عمارؓ پانچویں مثال عمار کی ہے جو سمیہ کے بیٹے تھے- انہیں جلتی ریت پر لٹایا جاتا تھا- صہیبؓ ایک غلام صہیب تھے جو روم سے پکڑے آئے- عبداللہ بن جدعان کے غلام تھے- جنہوں نے ان کو آزاد کر دیا تھا وہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور آپ کے لئے بہت سی تکالیف اٹھائیں- ابو فکیہہؓ ابوفکیہہ ایک غلام تھے وہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ابتدائی ایام میں ایمان لائے- انہیں بھی گرم ریت پر لٹایا جاتا- ایک دفعہ رسی باندھ کر انہیں کھینچا جا رہا تھا کہ پاس سے کوئی جانور گذرا- ان کے آقا نے ان کی طرف اشارہ کر کے انہیں کہا- یہ تمہارا خدا ہے انہوں نے کہا میرا اور تمہارا خدا ایک ہی ہے- اس پر اس ظالم نے ان کا گلا گھونٹا اور پھر بھاری پتھر ان کے سینہ پر رکھ دیا - جس سے ان کی زبان باہر نکل آئی اور لوگوں نے سمجھا کہ مر گئے ہیں- دیر تک ملنے ملانے سے انہیں ہوش آئی- لبینہؓ لبینہ ایک کنیز تھیں- یہ بھی نہایت ابتدائی ایام میں اسلام لائیں حضرت عمرؓ اپنے