انوارالعلوم (جلد 10) — Page 273
۲۷۳ غلاموں کی رائے پھر ایک مثل مشہور ہے کہ ماں سے زیادہ چاہنے والی کٹنی۱۸؎ کہلائے- اب سیدھی بات ہے کہ غلاموں سے زیادہ کسی کو ان کی آزادی کا خیال نہیں ہو سکتا- دیکھنا یہ چاہئے کہ غلاموں کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کیا رائے تھی- اگر غلام آپ کو اپنا محسن سمجھتے ہیں تو ماننا پڑے گا کہ آپ غلاموں کے محسن تھے نہ کہ غلامی کے حامی- اس کے متعلق میں ایک واقعہ پیش کرتا ہوں جس سے ظاہر ہے کہ غلام آپ کے کیسے دلدادہ تھے- نبوت کی زندگی کے پہلے سات سال میں کل چالیس آدمی آپ پر ایمان لائے تھے- ان میں سے کم سے کم پندرہ غلام تھے یا غلاموں کی اولاد تھے- گویا کل مومنوں کی تعداد میں تینتیس فیصدی غلام تھے اور مکہ کی آبادی کا لحاظ رکھا جائے تو یوں کہا جا سکتا ہے کہ ابتدائی مومنوں سے نوے فیصدی غلام تھے- مکہ کی آبادی دس بارہ ہزار کی تھی - جس میں چالیس پچاس آدمی ایمان لائے تھے اور زیادہ سے زیادہ پانچ چھ سو غلام وہاں ہوگا- پس کیا یہ عجیب بات نہیں کہ دس بارہ ہزار میں سے تیس پینتیس آدمی ایمان لائے اور پانچ چھ سو آدمیوں میں سے پندرہ سولہ آدمی- کیا غلاموں کا اس کثرت سے آپ پر ایمان لانا اس امر پر دلالت نہیں کرتا کہ غلام آپ کو اپنا رہائی دہندہ سمجھتے تھے- غلاموں کا تکلیفیں اٹھانا یاد رکھنا چاہئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر جن لوگوں نے سب سے زیادہ تکلیفیں اٹھائیں، وہ غلام ہی تھے- خُبابؓ چنانچہ خباب بن الارت ایک غلام تھے جو لوہار کا کام کرتے تھے- وہ نہایت ابتدائی ایام میں آپ پر ایمان لائے- لوگ انہیں سخت تکالیف دیتے تھے- حتیٰکہ انہی کی بھٹی کے کوئلے نکال کر ان پر انہیں لٹا دیتے تھے اور اوپر سے چھاتی پر پتھر رکھ دیتے تھے تا کہ آپ کمر نہ ہلا سکیں- ان کی مزدوری کا روپیہ جن لوگوں کے ذمہ تھا وہ روپیہ ادا کرنے سے منکر ہو گئے- مگر باوجود ان مالی اور جانی نقصانوں کے آپ ایک منٹ کے لئے بھی متذبذب نہ ہوئے اور ایمان پر ثابت قدم رہے- آپ کی پیٹھ کے نشان آخر عمر تک قائم رہے- چنانچہ حضرت عمرؓ کی حکومت کے ایام میں انہوں نے اپنے گذشتہ مصائب کا ذکر کیا تو انہوں نے ان سے پیٹھ دکھانے کو کہا- جب انہوں نے پیٹھ پر سے کپڑا اٹھایا تو تمام پیٹھ پر ایسے سفید داغ نظر آئے جیسے کہ برص کے داغ ہوتے ہیں-