انوارالعلوم (جلد 10) — Page 271
انوار العلوم جلد ۱۰ اجر مقرر کر چھوڑے ہیں۔ ۲۷۱ دنیا کا محسن اس جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ میری زوجیت یا میری موجود موجودگی میں تم کو مال نہیں مل سکتا۔ اگر میری زندگی میں مال لینا چاہتی ہو ۔ تو طلاق لے لو۔ اور الگ ہو جاؤ کہ میری دینی ذمہ داریاں مالداروں کی زندگی کی برداشت نہیں کر سکتیں۔ لیکن اگر تم اس وقت صبر سے کام لو اور میرے ساتھ مل کر خدمت دین کو ترجیح دو۔ تو پھر بھی تم کو مال مل جائے گا مگر میری وفات کے بعد ملے گا۔ میری موجودگی میں نہیں۔ چنانچہ آپ کی بیویوں کو مال ملے اور بہت ملے مگر آپ کی وفات کے بعد ۔ اب دیکھو کہ کہ اس طرح عورتوں کی خواہشات کو کو ٹھکرا دینے والا کیا عیاش کہلا سکتا ہے اور کیا کوئی عیاش اپنی بیویوں کی مال و زینت کی خواہش سن کر انہیں کہہ سکتا ہے کہ زینت کے سامان چاہئیں تو طلاق لے لو۔ پھر عیاش انسان عورتوں میں بے انصافی کرتا ہے جسے خوبصورت عورتوں میں بے انصافی سمجھے اس کی طرف زیادہ رغبت رکھتا ہے اور باقیوں کو چھوڑ دیتا ہے۔ ا دو سروں مگر رسول کریم ملی سلیم کا یہ حال تھا کہ جب آپ بیمار : آپ بیمار بار ہوئے تو اس حالت میں بھی دو کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اس بیوی کے ہاں چلے جاتے جس کی باری ہوتی۔ وفات سے تین دن قبل تک ایسا ہی کرتے رہے حتی کہ آپ کی یہ حالت دیکھ کر حضرت فاطمہ روپڑیں اور آپ کی بیویوں نے بھی کہا کہ آپ ایک جگہ ٹھہر جائیے۔ ہم بخوشی اس کی اجازت دیتی ہیں۔ تب آپ ایک جگہ ٹھر گئے جو انسان بیویوں میں انصاف کرنے کا اس قدر پابند ہو کہ مرض الموت میں بھی دوسرے کے کندھوں کا سہارا لے کر ان کے ہاں باری باری جاتا ہو اسے کون عیاش کہہ سکتا ہے۔ پھر عیاش اپنا زیادہ وقت عورتوں کی صحبت میں عورتوں میں زیادہ وقت صرف کرنا گزارتا ہے۔ مگر آپ کی یہ حالت تھی کہ صبح سے سے شام تک باہر رہتے اور رات کو جب گھر جاتے تو کھانا کھا کر لیٹ جاتے اور پھر رات کو اُٹھ کر عبادت کرتے ۔ اس طرح بندھے ہوئے اوقات میں آپ کو عیاشی کے لئے کونسا وقت ملتا تھا۔ الله پس آپ کی کئی بیویوں کو دیکھ کر یہ نہیں کہا رسول کریم ملی ایم کی شادیوں کی غرض جاسکتا کہ نَعُوذُ بِاللہ آپ عیاش تھے۔ دیکھنا یہ چاہئے کہ کس غرض کو مد نظر رکھ کر آپ نے شادیاں کیں۔ خدا کے لئے یا اپنے نفس