انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 266

انوار العلوم جلد ۱۰ ファン دنیا کا محسن مسئلہ جاری ہو رہا ہے اور دنیا نے فیصلہ کر دیا ہے کہ طلاق کا جائز نہ : کا جائز نہ ہونا بہت بڑا ظلم ہے۔ بلکہ امریکہ تو طلاق کے جواز میں اسلامی احکام سے بھی آگے نکل گیا ہے۔ کثرت ازدواج باقی رہا ہو یوں کے متعلق اعتراض ۔ سو زیادہ ہویاں کرنا اپنی ذات میں تو قابلِ اعتراض فعل نہیں ہے۔ قابلِ اعتراض بات تو عیاشی ہے یعنی بعض عورتوں کی طرف ناجائز اور حد سے بڑھی ہوئی رغبت۔ عیاشی کے لئے یہ چیزیں ضرورت ہوتی ہیں۔ (1) بڑا عیاش شراب کا عیاشی کے لوازمات دلدادہ ہوتا ہے۔ (۲) عمدہ کھانوں کا دلدادہ ہوتا ہے۔ (۳) عمدہ سامانوں کا دلدادہ ہوتا ہے۔ (۴) راگ و رنگ کا دلدادہ ہوتا ہے۔ (۵) باکرہ عورتوں کا دلدادہ ہوتا ہے۔ (۶) پہلے سے زیادہ حسین عورتوں کو تلاش کرتا ہے اور کم عمر عورتیں تلاش کرتا ہے۔ (۷) عورتوں کی خواہشوں کا پابند ہوتا ہے۔ (۸) عورتوں میں بے انصافی کرتا ہے۔ (۹) ان کی صحبت میں زیادہ وقت صرف کرتا ہے۔ یہ عیاش کی علامتیں ہوتی ہیں۔ کوئی عیاش ایسا نہ ہو گا جو شراب کو ناپسند عیاش کی علامتیں کرتا ہو۔ کیونکہ عیاشی کے لئے غم و فکرسے علیحدگی ضروری ہوتی ہے ۔ اور چونکہ ہر انسان کو کوئی نہ کوئی غم لگا ہوتا ہے اس لئے شراب پی کر خود فراموشی حاصل کی جاتی ہے۔ پھر عیاش کو عمدہ کھانوں کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ان کے ذریعہ شہوت بڑھے۔ پھر عیاش کو عمدہ سامانو سامانوں کی ضرورت ہوتی ہے ہے تاکہ ان کے ذریعہ شہوت کے خیالات پیدا ہوں۔ اس کے لئے یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ راگ و رنگ ہو ، گانا بجانا ہو تا کہ شہوانی خیالات کو طاقت حاصل ہو۔ پھر عیاش باکرہ عورتوں کا متلاشی ہوتا ہے۔ کبھی یہ نہ ہو گا کہ کوئی عیاش باکرہ عورتوں کو چھوڑ کر دوسری عورتیں پسند کرے۔ اور باکرہ عورتوں سے بھی وہ کم عمر عورتوں کو تلاش کرتا ہے۔ کیونکہ وہ کھیل تماشہ ہی چاہتا ہے اور یہ کم عمری میں زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح طبعاً بھی جس قدر رغبت چھوٹی عمر کی عورتوں سے ہو سکتی ہے۔ بڑی عمر کی عورت سے نہیں ہو سکتی ۔ دو سرے مطلقہ یا بیوہ عورت کے متعلق یہ بھی خطرہ ہوتا ہے کہ اس نے پہلے خاوند دیکھا ہوا ہے۔ ممکن ہے میں اس سے کمزور ہوں اور اس کی نظر میں میری مبکی ہو۔ پس وہ اس امتحان میں پڑنا نہیں چاہتا۔ پھر عیاش آدمی کی خواہش ہوتی ہے کہ ایک سے ایک بڑھ کر حسین عورت اس کے قبضہ میں آئے۔