انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 265

۲۶۵ حضرت عثمان ؓکی زندگی بھی حقیقتاً بے عیب تھی- گو بعض تاریخی غلطیوں کی وجہ سے لوگوں نے اسے اچھی طرح محسوس نہیں کیا- مگر حضرت علیؓ جو چوتھے خلیفہ ہیں اور نہ صرف خلیفہ ہی بلکہ بچپن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں پلے تھے اور آپ کے گھر میں رہے تھے اور آپ کے داماد تھے- ان کی نیکی، ان کے زہد، ان کی بے نفسی اور ان کی پاکیزگی کے دشمناناسلام قائل ہیں- میں پوچھتا ہوں- علیؓ ان اعتراضات کی موجودگی میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر کئے جاتے ہیں، اوپر کی صفات کو کہاں سے پا سکتے تھے- اور اگر یہ اخلاق ان کے ذاتی تھے- تو پھر میں پوچھتا ہوں کہ ایسے اعلیٰ درجہ کے اخلاق کے باوجود وہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مخلص کیوں رہے- پھر ان چاروں خلفاء کی ہی شرط نہیں- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قوم کی قوم ایسی پیدا کر دی جو عدل و انصاف کی مجسمہ تھی- حتیٰ کہ شام کے یہودیوں نے ہی نہیں مسیحیوں تک نے مسلمانوں کے شام کو چھوڑنے کا ارادہ معلوم کر کے ایک وفد بھیجا کہ ہمیں اپنے ہم مذہب مسیحیوں کی حکومت منظور نہیں آپ لوگ یہاں رہیں ہم ہر طرح آپ کی مدد کریں گے- کیونکہ آپ لوگوں کے ہاتھوں میں ہماری جانیں اور ہماری عزتیں اور ہمارے مال محفوظ ہیں- اب خدا را غور کرو کہ اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں غیر معمولی تقدس بلکہ تقدیس کی طاقت نہ ہوتی- تو عرب کے غیر متمدن لوگ ڈاکوں اور جوئے اور شراب میں فخر محسوس کرنے والے اس قسم کا تغیر کہاں سے پیدا کر لیتے اور عرب کی زمین آسمان کی جائے فخر کیونکر ہو جاتی- اہم اعتراضات کے جوابات آپ کے تقدس کے خلاف کچھ اعتراض بھی کئے جاتے ہیں- میں ان میں سے تین اہم اعتراضات کے جواب بھی اس موقع پر بیان کر دینا مناسب سمجھتا ہوں- میور لکھتا ہے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) نے بے شک بعض اصلاحات کیں لیکن تین خطرناک باتیں انہوں نے رائج کیں جو ان کی خدمات سے بہت زیادہ خطرناک تھیں- اور انہوں نے ان کی نیکیوں کے پلڑہ کو بالکل ہلکا کر دیا ہے اور وہ آپ کی تعلیم طلاق، کثرت ازدواج اور غلامی کے متعلق ہے- مسئلہ طلاق طلاق کے متعلق تو مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے یا تو اس پر بڑے زور شور سے اعتراض کئے جاتے تھے، اور یا اب تمام ممالک میں اور تمام اقوام میں یہ