انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 257

۲۵۷ لاکھ روپیہ کی وہ مالک تھی- پھر اس نے اپنی ساری دولت خاوند کے ہاتھ میں دے دی تھی اور اس خاوند کے حق میں ہے جس نے وہ ساری دولت غریبوں میں لٹا دی تھی- ایسی حالت میں اس عورت کو اپنے خاوند کے متعلق شکایت کے بیسیوں مواقع پیدا ہو سکتے تھے- مگر جب حضرت خدیجہ ؓ نے دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھبرائے ہوئے ہیں کہ یہ بوجھ جو مجھ پر ڈالا گیا ہے مجھ سے کس طرح اٹھایا جائے گا تو وہ بے ساختہ کہہ اٹھیں کہ کس طرح یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ خدا آپ پر شیطانوں کو مسلط کر دے مرد کا عورت سے بڑھ کر محرم راز کوئی نہیں ہو سکتا- پس یہ اس محرم راز کی شہادت ہے آپ کے تقدس کے متعلق- اور وہ بھی لوگوں کے سامنے نہیں کہ کہا جائے اپنے خاوند کی حمایت کے لئے اس نے ایسا کہا بلکہ الگ طور پر آپ کو تسلی دینے کے لئے کہتی ہے- یہ اتنی بڑی شہادت ہے کہ کسی کو اس کے انکار کی گنجائش نہیں ہو سکتی- دوستوں کی شہادت یہ تو آپ کے تقدس کے متعلق آپ کی بیوی کی شہادت ہے- مگر بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بیویوں سے تو اچھا سلوک کرتے ہیں- مگر اپنے ملنے جلنے والوں سے ان کا سلوک اچھا نہیں ہوتا- اس لئے کوئی کہہ سکتا ہے مان لیا بانیاسلام کی زندگی بیوی کے متعلق پاکیزہ تھی- لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اپنے دوستوں کے متعلق بھی اچھی تھی اس لئے میں آپ کے دوستوں کی شہادت پیش کرتا ہوں- ان دوستوں میں سے ایک تو ایسے دوست کی شہادت پیش کرتا ہوں جو آپ پر ایمان لایا- اور ایک ایسے کی جو ایمان نہ لایا- جو دوست ایمان لایا وہ حضرت ابوبکر ؓ تھے- ان کی گواہی یہ ہے- جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعویٰ کیا تو لوگوں میں مشہور ہو گیا کہ آپ پاگل ہو گئے ہیں یا آپ جھوٹ بولتے ہیں- حضرت ابوبکر ؓ اس وقت مکہ سے باہر تھے- واپسی پر کسی دوست کے ہاں بیٹھے ہوئے تھے کہ اس شخص کی لونڈی نے آکر کہا- آپ نے سنا کیسا اندھیر ہو گیا ہے کہ خدیجہ کے خاوند محمد )صلی اللہ علیہ وسلم( نے دعویٰ کیا ہے کہ مجھے خدا کی طرف سے الہام ہوتا ہے- اور میں نبی ہوں- حضرت ابوبکر ؓ یہ سن کر چپ چاپ اٹھے اور رسولکریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے- آکر دروازہ پر دستک دی- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکل کر آئے اور چاہا کہ آپ کو اپنے دعویٰ سے خبردار کریں کہ انہوں نے کہا مجھے ایک بات پوچھ لینے دیں- آپ نے رسالت کا دعویٰ کیا ہے، کیا یہ صحیح ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں-