انوارالعلوم (جلد 10) — Page 254
انوار العلوم جلد ۱۰ ۲۵۴ دنیا کا محسن رسول اللہ کا تقدس گو احسان اور قربانی میں ہی تقدس کا ذکر آ جاتا ہے کیونکہ نیک نیتی کے ساتھ دوسروں کے فائدہ کے لئے خدا خدا تعالیٰ کی رضا کو مد نظر رکھ کر کام کرنے کا کام کرنے کا نام ہی تقدس ہے ۔ طور پر بھی بعض باتیں بیان کر دیتا ہوں۔ ہے۔ مگر میں اصولی سب سے پہلی چیز دعوی ہوتا ہے اور جب مصلحین کا سوال ہو تو سب سے تقدس کا دعوی مقدم ۔ مقدم امر یہ ہے کہ دیکھا جائے کہ انہوں نے خود بھی اس ام د بھی اس امر کا دعویٰ کیا ہے یا نہیں کہ جو ان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ رسول کریم میں کے متعلق ہمیں صاف لفظوں میں تقدس کا دعوی نظر آتا ہے۔ ادعوی نظر آتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کو حکم دیا گیا تھا کہ آپ فرما میں کہ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ۔ سے ان کے سامنے یہ بات پیش کرو کہ میں بچپن سے تمہارے اندر رہا ہوں بچہ تھا کہ تم میں رہتے ہوئے بڑا ہوا۔ تم نے میری ایک ایک بات دیکھی ہے۔ کیا تم بنا سکتے ہو کہ میں نے کبھی جھوٹ اور فریب سے کام لیا یہ اگر کبھی نہیں لیا تو پھر تم کس طرح کہہ سکتے ہو کہ آج میں تم سے کوئی فریب کر رہا ہوں۔ رسول کریم مسلم کا دعوی ہے کہ آپ پر لوگ کوئی عیب نہیں لگا سکتے۔ پس وہ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ خدا پر آپ نے جھوٹ بولا۔ اس دعوئی کارڈ چونکہ آپ کے دشمنوں نے نہیں کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ انہیں بھی آپ کے تقدس کا اقرار تھا۔ دوسری شہادت ایک اور ہے۔ یہ بھی قرآن کریم تقدس کے دعوی کا ایک اور ثبوت اور بوت کی ہے اور قرآن کریم کے کے نہ ماننے والوں والوں کے لئے گو دلیل نہیں لیکن اس سے دعوی ضرور ثابت ہو جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ۔ قَدْ نَعْلَمُ إِنَّهُ لَيَحْزُنُكَ الَّذِي يَقُولُونَ فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ وَلَكِنَّ الظَّلِمِينَ بِأَيْتِ اللَّهِ تجھے جھوٹا يَجْحَدُونَ کے اللہ تعالیٰ آپ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ لوگ تجھے اور فریبی کہتے ہیں۔ مکار اور ٹھگ قرار دیتے ہیں۔ طالب حکومت اور شوکت بتاتے ہیں۔ اور یہ باتیں بتجھے بری لگتی ہیں مگر اس لئے نہیں کہ یہ تجھے برا کہتے ہیں۔ بلکہ اس لئے کہ یہ لوگ ہماری باتوں کا انکار کرتے ہیں۔ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ کسی کے مذہب کو اگر کوئی برا بھلا کے تو اسے اتنا جوش نہیں