انوارالعلوم (جلد 10) — Page 247
۲۴۷ حکم دیتا ہے کہ کسی کی خوبی کا انکار نہ کرو- اور دوسرے مذاہب کے بزرگوں کی تعظیم و تکریم کرو- جلسہ میلاد میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق مسلمانوں میں جلسے ہوتے ہیں مگر وہ خاص مذہبی رنگ کے ہوتے ہیں جیسے مولود کے جلسے- ان میں غیر مسلموں کے متعلق یہ امید رکھنا کہ وہ شامل ہوں- بہت بڑی بات ہے ان سے یہ امید تو کی جا سکتی ہے کہ وہ بانی اسلام کی خوبیاں سننے کے لئے آ جائیں- مگر یہ کہ کسی جلسہ میں مذہبی رسوم کی پابندی بھی کریں، یہ امید نہیں کی جا سکتی- وہ انسانی، علمی اور اخلاقی نقطئہ نگاہ سے تو ایسے جلسوں میں شامل ہو سکتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کئے جائیں- مگر مذہبی نقطئہ نگاہ سے نہیں شامل ہو سکتے- ہندو مسلم اتحاد کی تجویز پس میں نے سمجھا کہ ہندو مسلمانوں میں جو بعد بڑھتا جاتا ہے- اسے روکنے کا یہی طریق ہے کہ ایسے جلسے کئے جائیں- جن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق مذہبی حیثیت سے جلسہ نہ کیا جائے، بلکہ علمی حیثیت سے جلسہ کیا جائے- اگر لوگ دوسرے مذاہب کے لیڈروں کی خوبیاں دیکھ اور سن سکتے ہیں- تو پھر کیا وجہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوبیاں وہ نہ دیکھ سکیں- ایسے جلسوں میں غیر مسلم لوگ بھی شامل ہو سکتے ہیں اور اس طرح وہ خلیج جو روز بروز بڑھتی جاتی ہے دور ہو سکتی ہے- اور ہندو مسلمانوں میں صلح ممکن ہو سکتی ہے- علاوہ ازیں خود مسلمانوں کو بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات معلوم ہونے سے عقیدت اور اخلاص پیدا ہو سکتا ہے- پھر دوسرے مذاہب کے لوگ جب آپ کے صحیح حالات سنیں گے تو وہ ایسے لوگوں کو جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے ہیں روکیں گے- تحریک کی کامیابی یہ تحریک خدا کے فضل سے ایسے رنگ میں کامیاب ہوئی ہے کہ جو ہماری امیدوں سے بڑھ کر ہے- مثلاً کلکتہ میں بڑے بڑے لیڈروں نے جیسے بپن چندر پال جو گاندھی جی سے پہلے بہت بڑے لیڈر سمجھے جاتے تھے اور سی- پی رائے وائس چانسلر کلکتہ یونیورسٹی نے ایسے جلسہ کے اعلان میں اپنے نام لکھائے یا لیکچر دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے- اسی طرح اور کئی لیڈروں نے اپنے نام پیش کئے ہیں- مدراس کے ایک ہندو صاحب نے کئی ضلعوں میں ایسے جلسے کرانے کا ذمہ لیا ہے- اور لکھا ہے کہ ہندوستان میں امن قائم