انوارالعلوم (جلد 10) — Page 246
۲۴۶ ہیں- اور ہم سمجھتے ہیں، دنیا کی ہر قوم اور ہر مذہب کے لوگ جب سنجیدگی سے اس مسئلہ پر غور کریں گے تو انہیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ دنیا کا قیام خواہ روحانی لحاظ سے ہو اور خواہ جسمانی لحاظ سے اسی پر ہے کہ اپنے خیالات اور اپنی زبانوں پر قابو رکھا جائے اور ایسے رنگ میں کلام کیا جائے کہ تفرقہ اور شقاق نہ پیدا ہو- شملہ میں برہمو سماج کا جلسہ میں پچھلے سال شملہ گیا- ان دنوں رام موہن رائے صاحب جو کہ کلکتہ کے بہت بڑے آدمیوں میں سے گذرے ہیں- ان کی برسی تھی اور شملہ میں برہمو سماج کی طرف سے جلسہ ہونا تھا- مسز نائیڈو۲؎ جو کہ ایک ہندو لیڈر ہیں- بڑی بھاری شاعرہ ہیں اور گاندھی جی کی طرح ہندو مسلمانوں میں ادبواحترام کی نظر سے دیکھی جاتی ہیں اور بہت اثر رکھنے والی ہستی ہیں، وہ مجھے ملنے کے لئے آئیں- انہوں نے ذکر کیا کہ رام موہن رائے کی برسی کا دن ہے اور برہمو سماج نے جلسہ کیا ہے کیا یہ اچھا نہ ہوگا کہ آپ بھی اس جلسہ میں چلیں اور تقریر کریں- گو میں نے برہمو سماج کے متعلق کچھ لٹریچر پڑھا ہوا تھا مگر مجھے رام موہن رائے صاحب کی ذات کے متعلق زیادہ واقفیت نہ تھی- اس لئے میں حیران سا رہ گیا- لیکن معاً میرے دل میں خیال آیا کہ خواہ ان کے ذاتی حالات سے کتنی ہی کم واقفیت ہو مگر اس میں کیا شبہ ہے کہ انہوں نے شرک کو مٹانے کی ایک حد تک کوشش کی ہے- تب میرا انشراح صدر ہو گیا اور میں نے کہا میں اس جلسہ میں آؤں گا- چنانچہ میں وہاں گیا- مسٹر ایس- آر- داس جو وائسرائے کی کونسل کے قانونی ممبر ہیں، وہ اس جلسہ کے پریذیڈنٹ تھے اور بھی بہت سے معزز لوگ وہاں موجود تھے مسز نائیڈو بھی تھیں- سرحبیب اللہ بھی تھے- اتفاق ایسا ہوا اور وہاں کی سوسائٹی کے لحاظ سے یہ کوئی عجیب بات نہ تھی کہ سامعین کا اکثر حصہ اردو نہ جانتا تھا- مسز نائیڈو نے مجھ سے پوچھا- کیا آپ انگریزی میں تقریر کریں گے- میں نے کہا- انگریزی میں تقریر کرنے کی مجھے عادت نہیں- ولایت میں لکھ کر انگریزی تقریر کرتا رہا- مگر زبانی مختصراً چند الفاظ کہنے کے سوا باقاعدہ تقریر کا موقع نہیں ملا- مسزنائیڈو نے کہہ دیا اردو میں ہی تقریر کریں- لیکن چونکہ پریذیڈنٹ صاحب بالکل اردو نہ سمجھتے تھے اور حاضرین میں سے بھی ۹۰ فیصدی بنگالی تھے جو اردو نہ جانتے تھے، اس لئے میں نے تقریر نہ کی اور اس وجہ سے تقریر رہ گئی مگر میں تیار تھا- دراصل کسی کی خوبی کا نظر آنا بینائی پر دلالت کرتا ہے- اور خوبی کو نہ دیکھ سکنا نابینائی کی علامت ہوتی ہے اور اسلام ہمیں