انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 245

۲۴۵ اعوذ بالله من الشیطن الرجیم بسم الله الرحمن الرحيم نحمدہ و نصلى علی رسولہ الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ – هوالناصر دنیا کا محسن (فرموده۱۷جون ۱۹۲۸ء بر موقع جلسہ منعقده قادیان) قل ان صلاتی و نسکی و محیای و مماتی للہ رب العلمین- لا شریک لہ و بذلک امرت و انا اول المسلمین- ۱؎ جلسہ کی غرض آج کا جلسہ اس غرض کے لئے منعقد کیا گیا ہے کہ ہمارے ملک میں وہ رواداری اور وہ ایک دوسرے کے احساسات کا ادب و احترام پیدا ہو جس کے بغیر نہ خدا مل سکتا ہے اور نہ دنیا میں امن قائم ہو سکتا ہے- ہمیں جو تعلیم دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ہم تمام ادیان کے بزرگوں اور ہادیوں کا ادب و احترام کریں- تمام وہ لوگ جن کو ان کی قومیں خدا کی طرف سے کھڑا کیا گیا تسلیم کرتی ہیں- تمام وہ لوگ جن کے متبعین کی جماعتیں پائی جاتی ہیں- جو انہیں خدا کا مرسل اور مامور، اوتار یا بھیجا ہوا تسلیم کرتی ہیں، ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کی عزت کریں- ان کی ہتک سے اجتناب کریں- اور اس تعلیم کے ماتحت ہم ہمیشہ ہی مختلف اقوام کے بزرگوں اور ان کے مذہب کے بانیوں کا ادب و احترام کرتے رہے ہیں- ہم یہودیوں کے بزرگوں کا ادب کرتے ہیں- ہم عیسائیوں کے بزرگوں کا احترام کرتے ہیں- ہم چینیوں کے بزرگوں کو احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں- ہم جاپانیوں کے بزرگوں کا ادب کرتے اور ہم اپنے ابنائے وطن ہندؤوں کے بزرگوں کی تعظیم کرتے ہیں- اور خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت کرتے ہیں- اپنی کسی نفسانیت کی وجہ سے نہیں کرتے کسی ذاتی فائدہ اور غرض کے لئے نہیں کرتے بلکہ واقعہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے اور دنیا کے لئے مامور سمجھ کر کرتے